تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 402 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 402

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۲ سورة النساء وطن میں۔پس اس کے دل میں تھا کہ کسی اور جگہ ہجرت کر کے عزت پاوے اور ہجرت انبیاء علیہم السلام کی سنت میں سے بھی ہے لیکن چونکہ کسی قدر قوم کے ہاتھ سے دکھ اُٹھانا اس کی قسمت میں تھا اس لیے اس ارادہ کے پورا کرنے سے پہلے ہی پکڑا گیا اور سولی پر کھینچا گیا مگر جیسا کہ یونس کے قصہ کے خیال سے سمجھا جاتا ہے خدا نے اس کو اس موت سے بچا لیا اور اس کی دعا کو جو باغ میں کی تھی اس کے تقویٰ کی وجہ سے قبول کیا۔تب اس نے اپنے اس ارادہ کو پورا کیا جو اس کے دل میں تھا اور دوسری گم شدہ بھیٹروں کی تلاش میں وہ دور دراز ملکوں کی طرف نکل گیا اسی وجہ سے اس کا یسوع آسف نام ہوا۔یعنی گم شدہ قوم کو تلاش کرنے والا، پھر کثرت استعمال سے یہ لفظ یوز آسف کے نام سے مشہور ہو گیا۔غرض یونس نبی سے مسیح کی یہی مماثلت تھی کہ وہ زندگی کی حالت میں ہی یونس کی طرح قبر میں داخل ہوا اور نیز قوم کے ڈر سے دوسرے ملک کی طرف بھاگا اگر اس مماثلت کو قبول نہ کیا جائے تو پھر مسیح کا بیان خلاف واقع ٹھہرتا ہے اور نیز بجائے مماثلت کے منافات ثابت ہوتی ہے اور مماثلت کے قبول کرنے سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا۔پھر دوسری دلیل اس بات پر کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا۔اس کی وہ دعا ہے جو اس نے باغ میں نہایت تضرع اور عاجزی سے کی تھی جس کا مفصل ذکر انجیلوں میں موجود ہے اور میں ہر گز سمجھ نہیں سکتا کہ اس قسم کی دعا کہ مسیح جیسا ایک راست باز ساری رات کرے اور گریہ اور زاری اور تضرع کو انتہا تک پہنچا دے تب بھی وہ دعا قبول نہ ہو۔دعا کا مطلب صرف یہ تھا کہ وہ سولی سے بچایا جاوے کیونکہ یہودیوں نے یہ سوچا تھا کہ مسیح کو سولی دے کر یہ امر لوگوں کے ذہن نشین کریں کہ وہ نعوذ باللہ ! صادق نہیں ہے اور ان کا ذبوں میں سے ہے جن پر خدا کی لعنت ہے، یہی غم تھا جس کی وجہ سے مسیح نے ساری رات دعا کی تھی ورنہ اس کوموت کا کوئی غم نہ تھا اور ایسی حالت میں ضروری تھا کہ خدا تعالیٰ مسیح کی بریت کے لیے اس کی دعا منظور فرما تا سو وہ دعا منظور کی گئی چنانچہ انجیل میں صریح الفاظ میں اس کا ذکر ہے کہ مسیح رات کو روتا رہا اور وہ جناب الہی میں چنیں مارتا رہا اور ساری رات اس کے آنسو جاری رہے۔پس اس کے تقویٰ کی وجہ سے وہ دعا قبول کی گئے دیکھو عبرانیوں ۷ / ۵ اس مقام میں عیسائیوں کی عقل اور سمجھ پر بہت سخت تعجب ہے کہ جس حالت میں انجیل خود گواہی دیتی ہے کہ باغ والی دعا قبول کی گئی تو پھر قبول ہونے کے بجز اس کے اور کیا معنے ہیں کہ وہ صلیب پر مرنے سے بچایا گیا۔پھر تیسری دلیل اس بات پر کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا اس کا زندہ دیکھا جانا ہے یعنی وہ بعد صلیب کے اپنے حواریوں کو ملا اور اپنے زخم دکھلائے اور ان کے ساتھ تکمیل کی طرف گیا اس جگہ عقل کو اس فتقومی کے لیے کوئی راہ