تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 392
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۲ سورة النساء اور یہ جو وعدہ ہے کہ آخری زمانہ میں مسیح دوبارہ آئے گا اس آمدثانی سے مراد ایک ایسے آدمی کا آنا ہے کہ جو عیسی مسیح کی خواور خلق پر ہوگا نہ یہ کہ عیسیٰ خود آ جائے گا چنانچہ کتاب نیو لائف آف جیزس جلد اول صفحه ۴۱۰ مصنفہ ڈی ایف سٹراس میں اس کے متعلق ایک عبارت ہے جس کو میں اپنی کتاب تحفہ گولڑویہ صفحہ ۱۲۷ میں درج کر چکا ہوں اور اس جگہ اس کے ترجمہ پر کفائت کی جاتی ہے اور وہ یہ ہے۔اگر چہ صلیب کے وقت ہاتھ اور پاؤں دونوں پر میخیں ماری جائیں پھر بھی بہت تھوڑا خون انسان کے بدن سے نکلتا ہے اس واسطے صلیب پر لوگ رفتہ رفتہ اعضاء پر زور پڑنے کے سبب تشیخ میں گرفتار ہو کر مرجاتے ہیں یا بھوک سے مر جاتے ہیں پس اگر فرض بھی کر لیا جاوے کہ قریب چھ گھنٹہ صلیب پر رہنے کے بعد یسوع جب اتارا گیا تو وہ مرا ہوا تھا تب بھی نہایت ہی اغلب بات یہ ہے کہ وہ صرف ایک موت کی سی بیہوشی تھی اور جب شفا دینے والی مرہمیں اور نہایت خوشبو دار دوائیاں مل کر اسے غار کی ٹھنڈی جگہ میں رکھا گیا تو اس کی بیہوشی دور ہوئی اس دعویٰ کی دلیل میں عموماً یوسفس کا واقعہ پیش کیا جاتا ہے جہاں یوسفس نے لکھا ہے کہ میں ایک دفعہ ایک فوجی کام سے واپس آرہا تھا تو راستہ میں میں نے دیکھا کہ کئی ایک یہودی قیدی صلیب پر لٹکے ہوئے ہیں ان میں سے میں نے پہچانا کہ تین میرے واقف تھے پس ٹیٹس (حاکم وقت ) سے ان کے اتار لینے کی اجازت حاصل کی اور ان کو فوراً اتار کر ان کی خبر گیری کی تو ایک بالآخر تندرست ہو گیا پر باقی دو مر گئے۔“ لیا اور کتاب ”ماڈرن ڈوٹ اینڈ کرسچین بیلیف“ کے صفحہ ۷٫۴۵۵ ۴۵ و ۳۴۷ میں انگریزی میں ایک عبارت ہے جس کو ہم اپنی کتاب تحفہ گولڑویہ کے صفحہ ۱۳۸۔میں لکھ چکے ہیں ترجمہ اس کا ذیل میں لکھا جاتا ہے اور وہ یہ ہے۔شلیر میجر اور نیز قدیم محققین کا یہ مذہب تھا کہ یسوع صلیب پر نہیں مرا بلکہ ایک ظاہراً موت کی سی حالت ہوگئی تھی اور قبر سے نکلنے کے بعد کچھ مدت تک اپنے حواریوں کے ساتھ پھرتا رہا۔اور پھر دوسری یعنی اصلی موت کے واسطے کسی علیحدگی کے مقام کی طرف روانہ ہو گیا۔“ اور یسعیاہ نبی کی کتاب باب ۵۳ میں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے اور حضرت عیسی علیہ السلام کی اپنی دعا بھی جو انجیل میں موجود ہے یہی ظاہر کر رہی ہے جیسا کہ اس میں لکھا ہے : دَعَا بِدُمُوعِ جَارِيَةٍ وَعَبَرَاتٍ مُتَحَيّرَةٍ فَسُمِعَ لِتَقوهُ یعنی عیسی نے بہت گریہ وزاری سے دعا کی اور اس کے آنسو اس کے رخساروں پر پڑتے تھے پس بوجہ اس کے تقویٰ کے وہ دعا منظور ہوگئی۔لے انگریزی لفظ THOUGHT ہے۔ناشر