تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 393
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۳ سورة النساء ہے۔اور کرئیرڈ لا سیرا جنوبی اٹلی کے سب سے مشہور اخبار نے مندرجہ ذیل عجیب خبر شائع کی ۱۳ / جولائی ۱۸۷۹ ء کو یروشلم میں ایک بوڑھا راہب مسمی کورمرا جو اپنی زندگی میں ایک ولی مشہور تھا اس کے پیچھے اس کی کچھ جائیداد ہی اور گورنر نے اس کے رشتہ داروں کو تلاش کر کے ان کے حوالہ دولا کھ فرینک ( ایک لاکھ پونے انیس ہزار روپیہ) کیسے جو مختلف ملکوں کے سکوں میں تھے اور اس غار میں سے ملے جہاں وہ راہب بہت عرصہ سے رہتا تھا روپیہ کے ساتھ بعض کا غذات بھی ان رشتہ داروں کو ملے جن کو وہ پڑھ نہ سکتے تھے۔چند عبرانی زبان کے فاضلوں کو ان کا غذات کے دیکھنے کا موقع ملا تو ان کو یہ عجیب بات معلوم ہوئی کہ یہ کاغذات بہت ہی پرانی عبرانی زبان میں تھے جب ان کو پڑھا گیا تو ان میں یہ عبارت تھی۔پطرس ماہی گیر یسوع مریم کے بیٹے کا خادم اس طرح پر لوگوں کو خدا تعالیٰ کے نام میں اور اس کی مرضی کے مطابق خطاب کرتا ہے اور یہ خط اس طرح ختم ہوتا ہے۔میں پطرس ماہی گیر نے یسوع کے نام میں اور اپنی عمر کے نوے سال میں یہ محبت کے الفاظ اپنے آقا اور مولی یسوع مسیح مریم کے بیٹے کی موت کے تین عید فسح بعد ( یعنی تین سال بعد ) خداوند کے مقدس گھر کے نزدیک بولیر کے مکان میں لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔“ ان فاضلوں نے نتیجہ نکالا ہے کہ یہ نسخہ پطرس کے وقت کا چلا آتا ہے۔لنڈن بائبل سوسائٹی کی بھی یہی رائے ہے۔اور ان کا اچھی طرح امتحان کرانے کے بعد بائبل سوسائٹی اب ان کے عوض چار لاکھ لیرا ( دو لاکھ ساڑھے سینتیس ہزار روپیہ ) مالکوں کو دے کر کاغذات کو لینا چاہتی ہے۔یسوع ابن مریم کی دعا ان دونوں پر سلام ہو۔اس نے کہا اے میرے خدا میں اس قابل نہیں کہ اس چیز پر غالب آ سکوں جس کو میں برا سمجھتا ہوں نہ میں نے اس نیکی کو حاصل کیا ہے جس کی مجھے خواہش تھی مگر دوسرے لوگ اپنے اجر کو اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں اور میں نہیں۔لیکن میری بڑائی میرے کام میں ہے مجھ سے زیادہ بری حالت میں کوئی شخص نہیں ہے اے خدا جو سب سے بلند تر ہے میرے گناہ معاف کر۔اے خدایسانہ کرکہ میں اپنے دشمنوں کے لیے الزام کا سبب ہوں نہ مجھے اپنے دوستوں کی نظر میں حقیر ٹھہرا۔اور ایسا نہ ہو کہ میرا تقویٰ مجھے مصائب میں ڈالے۔ایسا نہ کر کہ یہی دنیا میری بڑی خوشی کی جگہ یا میرا بڑا مقصد ہو اور ایسے شخص کو مجھے پر مسلط نہ کر جو مجھ پر رحم نہ کرے اے خدا جو بڑے رحم والا ہے اپنے رحم کی خاطر ایسا ہی کر تو ان سب پر رحم کرتا ہے جو تیرے رحم کے حاجت مند ہیں۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۳۶ تا ۳۴۵)