تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 391
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۱ سورة النساء افسوس کہ یہ شبہات دلوں میں اسی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں کہ عموماً اکثر مسلمانوں کو نہ یہودیوں کے فرقوں اور ان کے عقیدہ سے پوری واقفیت ہے اور نہ عیسائیوں کے عقیدوں کی پوری اطلاع ہے۔لہذا میں مناسب دیکھتا ہوں کہ اس جگہ میں یہودیوں کی ایک پرانی کتاب میں سے جو قریباً انین نو برس کی تالیف ہے اور اس جگہ ہمارے پاس موجود ہے ان کے اس عقیدہ کی نسبت جو حضرت مسیح کے قتل کرنے کے بارے میں ایک فرقہ ان کا رکھتا ہے بیان کردوں اور یادر ہے کہ اس کتاب کا نام تولید وت یشوع ہے جو ایک قدیم زمانہ کی ایک عبرانی کتاب مصنفہ بعض علماء یہود ہے چنانچہ اس کتاب کے صفحہ ۳۱ میں لکھا ہے ” پھر وہ (یعنی یہودی لوگ یسوع کو باہر سزا کے میدان میں لے گئے اور اس کو سنگ سار کر کے مار ڈالا اور جب وہ مر گیا تب اس کو کا ٹھ پر لٹکا دیا تا کہ اس کی لاش کو جانور کھا ئیں اور اس طرح مردہ کی ذلت ہو۔اس قول کی تائید انجیل کے اس قول سے بھی ہوتی ہے جہاں لکھا ہے کہ یسوع جسے تم نے قتل کر کے کا ٹھر پر لڑکا یا۔دیکھو اعمال باب ۵ آیت ۳۰۔انجیل کے اس فقرہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلے قتل کیا پھر کاٹھ پر لٹکایا اور یادر ہے کہ جیسا کہ پادریوں کی عادت ہے انجیلوں کے بعض اردو تر جمہ میں اس فقرہ کو بدلا کر لکھ دیا گیا ہے مگر انگریزی انجیلوں میں اب تک وہی فقرہ ہے جو ابھی ہم نے نقل کیا ہے۔بہر حال یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یہودیوں کے حضرت عیسی کے ہلاک کرنے کے بارے میں دو مذہب ہیں جن میں سے ایک یہ کہ اول قتل کیا اور پھر صلیب دیا۔پس اس مذہب کا بھی رد کرنا ضروری تھا اور ایسے خیال کے لوگوں کا پہلی آیت میں ذکر بھی ہے یعنی اس آیت میں کہ إنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِیسَی ابْنَ مَرْيَمَ پس جبکہ دعوی یہ تھا کہ ہم نے عیسی کو قتل کیا تو ضرور تھا کہ پہلے اس دعوی کو رد کیا جاتا۔لیکن خدا تعالیٰ نے روکو مکمل کرنے کے لیے دوسرے فرقہ کا بھی اس جگہ رد کر دیا جو کہتے تھے کہ ہم نے پہلے صلیب دیا ہے پس اس کے رد کے لیے ما صلبوہ فرما دیا اور بعد اس کے اللہ تعالیٰ نے فرما: یا ولکن شُبّهَ لَهُمْ وَ إِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتَّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قتَلُوهُ يَقينا - ترجمہ یعنی عیسی نہ قتل کیا گیا اور نہ صلیب دیا گیا بلکہ ان لوگوں پر حقیقت حال مشتبہ کی گئی۔اور یہود و نصاری جو مسیح کے قتل یا رفع روحانی میں اختلاف رکھتے ہیں محض شک میں مبتلا ہیں ان میں سے کسی کو بھی علم صحیح حاصل نہیں محض ظنوں اور شکوک میں گرفتار ہیں اور وہ خود یقین نہیں رکھتے کہ سچ مچ عیسی کو قتل کر دیا گیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ عیسائیوں میں بعض فرقے اس بات کے قائل ہیں کہ مسیح کی آمد ثانی الیاس نبی کی طرح بروزی طور پر ہے یعنی یہ عقیدہ بالکل غلط ہے کہ صیح زندہ آسمان پر بیٹھا ہے بلکہ درحقیقت وہ فوت ہو چکا ہے ج