تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 390
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۰ سورة النساء الابواب ( ص :۵۱) پس سیدھی بات کو الٹا دینا تقویٰ اور طہارت کے برخلاف اور ایک طور سے تحریف کلام الہی ہے۔( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۵۲ تا ۵۵) اور ان کا ( یعنی یہود کا ) یہ کہنا کہ ہم نے مسیح عیسی ابن مریم رسول اللہ کو قتل کر دیا ہے حالانکہ نہ انہوں نے اس کو قتل کیا اور نہ صلیب دیا بلکہ یہ امران پر مشتبہ ہو گیا اور جو لوگ عیسی کے بارے میں اختلاف رکھتے ہیں ( یعنی عیسائی کہتے ہیں کہ عیسی زندہ آسمان پر اُٹھایا گیا اور یہودی کہتے ہیں کہ ہم نے اس کو ہلاک کر دیا ) یہ دونوں گروہ محض شک میں پڑے ہوئے ہیں حقیقت حال کی ان کو کچھ بھی خبر نہیں اور صحیح علم ان کو حاصل نہیں محض انکلوں کی پیروی کرتے ہیں یعنی نہ عیسی آسمان پر گیا جیسا کہ عیسائیوں کا خیال ہے اور نہ یہودیوں کے ہاتھ سے ہلاک کیا گیا جیسا کہ یہودیوں کا گمان ہے بلکہ صحیح بات ایک تیسری بات ہے کہ وہ مخلصی پا کر ایک دوسرے ملک میں چلا گیا اور خود یہودی یقین نہیں رکھتے کہ انہوں نے اس کو قتل کر دیا بلکہ خدا نے اس اپنی طرف اٹھالیا اور خدا غالب اور حکمتوں والا ہے۔اب ظاہر ہے کہ ان آیات کے سر پر یہ قول یہودیوں کی طرف سے منقول ہے کہ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ یعنی ہم نے مسیح عیسی بن مریم کو قتل کیا سوجس قول کو خدا تعالیٰ نے یہودیوں کی طرف سے بیان فرمایا ہے ضرور تھا کہ پہلے اسی کو رد کیا جاتا اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے قتَلُوا کے لفظ کو صَلَّبُوا کے لفظ پر مقدم بیان کیا کیونکہ جو دعوئی اس مقام میں یہودیوں کی طرف سے بیان کیا گیا ہے وہ تو یہی ہے کہ انا قتلنا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ - پھر بعد اس کے یہ بھی معلوم ہو کہ حضرت عیسی کے ہلاک کرنے کے بارے میں کہ کس طرح ان کو ہلاک کیا یہودیوں کے مذہب قدیم سے دو ہیں۔ایک فرقہ تو کہتا ہے کہ تلوار کے ساتھ پہلے ان کو قتل کیا گیا تھا اور پھر ان کی لاش کولوگوں کی عبرت کے لیے صلیب یا درخت پر لٹکایا گیا اور دوسرا فرقہ یہ کہتا ہے کہ ان کو صلیب دیا گیا تھا اور بعد صلیب ان کو قتل کیا گیا۔اور یہ دونوں فرقے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں موجود تھے اور اب بھی موجود ہیں پس چونکہ ہلاک کرنے کے وسائل میں یہودیوں کو اختلاف تھا بعض ان کی ہلاکت کا ذریعہ اوّل قتل قرار دے کر پھر صلیب کے قائل تھے اور بعض صلیب کو قتل پر مقدم سمجھتے تھے اس لیے خدا تعالیٰ نے چاہا کہ دونوں فرقوں کا رد کر دے مگر چونکہ جس فرقہ کی تحریک سے یہ آیات نازل ہوئی ہیں وہ وہی ہیں جو قبل از صلیب قتل کا عقیدہ رکھتے تھے اس لیے قتل کے گمان کا ازالہ پہلے کر دیا گیا اور صلیب کے خیال کا ازالہ بعد میں۔