تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 327 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 327

سورة النساء تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام یا و با میں مر گیا وغیرہ مگر میں کہتا ہوں کہ اسی پر اکتفا کرنا اور اسی حد تک اس کو محد و درکھنا مومن کی شان سے بعید ہے شہید اصل میں وہ شخص ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ سے استقامت اور سکینت کی قوت پاتا ہے اور کوئی زلزلہ اور حادثہ اس کو متغیر نہیں کر سکتا وہ مصیبتوں اور مشکلات میں سینہ سپر رہتا ہے یہاں تک کہ اگر محض خدا تعالیٰ کے لیے اس کو جان بھی دینی پڑے تو فوق العادت استقلال اس کو ملتا ہے اور وہ بدوں کسی قسم کا رنج یا حسرت محسوس کیے اپنا سر رکھ دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ بار بار مجھے زندگی ملے اور بار بار اس کو اللہ کی راہ میں دوں۔ایک ایسی لذت اور سروران کی روح میں ہوتا ہے کہ ہر تلوار جوان کے بدن پر پڑتی ہے اور ہر ضرب جوان کو میں ڈالے ان کو پہنچتی ہے وہ ان کو ایک نئی زندگی نئی مسرت اور تازگی عطا کرتی ہے یہ ہیں شہید کے معنی۔پھر یہ لفظ شہد سے بھی نکلا ہے عبادت شاقہ جو لوگ برداشت کرتے ہیں اور خد کی راہ میں ہر ایک تلخی اور کدورت کو جھیلتے ہیں اور جھیلنے کے لیے طیار ہو جاتے ہیں وہ شہد کی طرح ایک شیرینی اور حلاوت پاتے ہیں اور جیسے شہد فِيهِ شِفَاء للناس کا مصداق ہے یہ لوگ بھی ایک تریاق ہوتے ہیں ان کی صحبت میں آنے والے بہت سے امراض سے نجات پا جاتے ہیں۔اور پھر شہید اس درجہ اور مقام کا نام بھی ہے جہاں انسان اپنے ہر کام میں اللہ تعالیٰ کو دیکھتا ہے یا کم از کم خدا کو دیکھتا ہوا یقین کرتا ہے اس کا نام احسان بھی ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱۱ مورخه ۲۴ / مارچ ۱۹۰۱ء صفحه ۱) صالحین وہ ہوتے ہیں جن کے اندر سے ہر قسم کا فساد جاتا رہے جیسے تندرست آدمی جب ہوتا ہے تو اس کی زبان کا مزہ بھی درست ہوتا ہے پورے اعتدال کی حالت میں تندرست کہلاتا ہے کسی قسم کا فساد اندر نہیں رہتا۔اسی طرح پر صالحین کے اندر کسی قسم کی روحانی مرض نہیں ہوتی اور کوئی مادہ فساد کا نہیں ہوتا اس کا کمال اپنے نفس میں نفی کے وقت ہے اور شہید ، صدیق ، نبی کا کمال ہوتی ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۲۶ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۲ صفحه ۶) صلاح کی حالت میں انسان کو ضروری ہوتا ہے کہ ہر ایک قسم کے فساد سے خواہ وہ عقائد کے متعلق ہو یا اعمال کے متعلق پاک ہو جیسے انسان کا بدن صلاحیت کی حالت اس وقت رکھتا ہے جبکہ سب اخلاط اعتدال کی حالت پر ہوں اور کوئی کم زیادہ نہ ہو لیکن اگر کوئی خلط بھی بڑھ جائے تو جسم بیمار ہو جاتا ہے اسی طرح پر روح کی صلاحیت کا مدار بھی اعتدال پر ہے اسی کا نام قرآن شریف کی اصطلاح میں صراط مستقیم ہے صلاح کی حالت میں انسان محض خدا کا ہو جاتا ہے جیسے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی حالت تھی اور رفتہ رفتہ صالح انسان ترقی