تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 328 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 328

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۸ کرتا ہوا مطمئنہ کے مقام پر پہنچ جاتا ہے اور یہاں ہی اس کا انشراح صدر ہوتا ہے۔سورة النساء الحکم جلد ۵ نمبر ۳۰ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۱ صفحه ۲) کامل صلاح یہ ہے کہ کسی قسم کا کوئی بھی فساد باقی نہ رہے بدن صالح میں کسی قسم کا کوئی خراب اور زہریلا مادہ نہیں ہوتا بلکہ صاف اور مؤید صحت مواد اس میں ہو اس وقت صالح کہلاتا ہے جب تک صالح نہیں لوازم بھی صالح نہیں ہوتے یہاں تک کہ مٹھاس بھی اسے کڑوی معلوم ہوتی ہے اسی طرح پر جب تک صالح نہیں بنتا اور ہر قسم کی بدیوں سے نہیں بچتا اور خراب مادے نہیں نکلتے اس وقت تک عبادات کر وی معلوم ہوتی ہیں نماز میں جاتا ہے مگر اسے کوئی لذت اور سرور نہیں آتا وہ فکریں مار کر منحوس منہ سے سلام پھیر کر رخصت ہوتا ہے لیکن مزا اسی وقت آتا ہے جب گندے مواد نکل جاتے ہیں تو انس اور ذوق شوق پیدا ہوتا ہے۔اور اصلاح انسانی اسی درجہ سے شروع ہوتی ہے۔الحکم جلد ۹ نمبر ۱۸ مورخه ۲۴ رمئی ۱۹۰۵ ء صفحه ۸) چوتھا درجہ صالحین کا ہے جن کو مواد ردیہ سے صاف کر دیا گیا ہے اور ان کے قلوب صاف ہو گئے ہیں یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب تک مواد ر د یہ دور نہ ہوں اور سوء مزاج رہے تو مزہ زبان تک کا بھی بگڑ جاتا ہے، تلخ معلوم دیتا ہے اور جب بدن میں پوری صلاحیت اور اصلاح ہو اس وقت ہر ایک شے کا اصل مزہ معلوم ہوتا ہے اور طبیعت میں ایک قسم کی لذت اور سرور اور چستی اور چالا کی پائی جاتی ہے اسی طرح پر جب انسان گناہ کی ناپاکی میں مبتلا ہوتا ہے۔اور روح کا قوام بگڑ جاتا ہے پھر روحانی قوتیں کمزور ہونی شروع ہو جاتی ہیں یہاں تک کہ عبادات میں مزہ نہیں رہتا طبیعت میں ایک گھبراہٹ اور پریشانی پائی جاتی ہے لیکن جب مواد رد یہ جو گناہ کی زندگی سے پیدا ہوئے تھے تو بہ النصوح کے ذریعہ خارج ہونے لگیں تو روح میں وہ اضطراب اور بے چینی کم ہونے لگتی ہے یہاں تک کہ آخر ایک سکون اور تسلی ملتی ہے پہلے جو گناہ کی طرف قدم اٹھانے میں راحت محسوس ہوتی تھی اور پھر اسی فعل میں جو نفس کی خواہش کا نتیجہ ہوتا تھا اور جھکنے میں خوشی ملتی تھی اس طرف جھکتے ہوئے دکھ اور رنج معلوم ہوتا ہے روح پر ایک لرزہ پڑ جاتا ہے اگر اس تاریک زندگی کا وہم یا تصور بھی آجائے اور پھر عبادات میں ایک لطف ، ذوق ، جوش اور شوق پیدا ہونے لگتا ہے۔روحانی قومی جو گناہ آمیز زندگی سے مردہ ہو چلے تھے ان کا نشود نما شروع ہوتا ہے اور اخلاقی طاقتیں اپنا ظہور کرتی ہیں۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱۱ مورخه ۲۴ مارچ ۱۹۰۱ء صفحه ۲،۱) منعم علیہ چار قسم کے لوگ ہوتے ہیں نبی صدیق شہدا اور صالح۔انبیاء علیہم السلام میں چاروں شانیں جمع