تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 326
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نشان کے ہے۔۳۲۶ سورة النساء تریاق القلوب ، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۴۲۱،۴۲۰) شہید کا کمال یہ ہے کہ مصیبتوں اور دکھوں اور ابتلاؤں کے وقت میں ایسی قوت ایمانی اور قوت اخلاقی اور ثابت قدمی دکھلا دے کہ جو خارق عادت ہونے کی وجہ سے بطور نشان کے ہو جائے۔تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۵۱۶) جب تک ایمان قوی ہوتا ہے اسی قدر اعمال میں بھی قوت آتی ہے یہاں تک کہ اگر یہ قوت ایمانی پورے طور پر نشو ونما پا جاوے تو پھر ایسا مومن شہید کے مقام پر ہوتا ہے کیونکہ کوئی امر اس کے سد راہ نہیں ہوسکتا وہ اپنی عزیز جان تک دینے میں بھی تامل اور دریغ نہ کرے گا۔(الحکم جلد ۹ نمبر ۹ مورخہ ۷ اسر مارچ ۱۹۰۵ صفحه ۶) عام لوگ تو شہید کے لیے اتنا ہی سمجھ بیٹھے ہیں کہ شہید وہ ہوتا ہے جو تیر یا بندوق سے مارا جاوے یا کسی اور اتفاقی موت سے مر جاوے مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہادت کا یہی مقام نہیں ہے۔۔۔۔۔۔میرے نزدیک شہید کی حقیقت قطع نظر اس کے کہ اس کا جسم کاٹا جاوے کچھ اور ہی ہے اور وہ ایک کیفیت ہے جس کا تعلق دل سے ہے۔یاد رکھو کہ صدیق نبی سے ایک قرب رکھتا ہے اور وہ اس کے دوسرے درجہ پر ہوتا ہے اور شہید صدیق کا ہمسایہ ہوتا ہے نبی میں تو سارے کمالات ہوتے ہیں یعنی وہ صدیق بھی ہوتا ہے اور شہید بھی ہوتا ہے صالح بھی ہوتا ہے لیکن صدیق اور شہید ایک الگ الگ مقام ہیں۔اس بحث کی بھی حاجت نہیں کہ آیا صدیق شہید ہوتا ہے یا نہیں۔وہ مقام کمال جہاں ہر ایک امر خارق عادت اور معجزہ سمجھا جاتا ہے وہ ان دونوں مقاموں پر اپنے رتبہ اور درجہ کے لحاظ سے جدا ہے۔اس لیے اللہ تعالیٰ اسے ایسی قوت عطا کرتا ہے کہ جو عمدہ اعمال ہیں اور جو عمدہ اخلاق ہیں وہ کامل طور پر اور اپنے اصلی رنگ میں اس سے صادر ہوتے ہیں اور بلا تکلف صادر ہوتے ہیں کوئی خوف اور رجا ان اعمالِ صالحہ کے صدور کا باعث نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ اس کی فطرت اور طبیعت کا ایک جزو ہو جاتے ہیں تکلف اس کی طبیعت میں نہیں رہتا جیسے ایک سائل کسی شخص کے پاس آوے تو خواہ اس کے پاس کچھ ہو یا نہ ہو تو اسے دینا ہی پڑے گا۔اگر خدا کے خوف سے نہیں تو خلقت کے لحاظ سے مگر اس قسم کا تکلف شہید میں نہیں ہوتا اور یہ قوت اور طاقت اس کی بڑھتی جاتی ہے جوں جوں بڑھتی جاتی ہے اسی قدر اس کی تکلیف کم ہوتی جاتی ہے اور وہ بوجھ کا احساس نہیں کرتا مثلاً ہاتھی کے سر پر ایک چیونٹی ہو تو وہ اس کا کیا احساس کرے گا۔احکام جلد ۹ نمبر ۱۸ مورخه ۲۴ مئی ۱۹۰۵ صفحه ۸) عام لوگوں نے شہید کے معنی صرف یہی سمجھ رکھے ہیں کہ جو شخص لڑائی میں مارا گیا، یا دریا میں ڈوب گیا