تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 17 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 17

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام 12 سورة ال عمران اس جگہ اَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلّهِ۔رَ وَجْهَهُ لِلہ کے معنے یہی ہیں کہ ایک نیستی اور تذلیل کا لباس پہن کر آستانہ الوہیت پر گرے اور اپنی جان، مال، آبر و غرض جو کچھ اس کے پاس ہے خدا ہی کے لیے وقف کرے اور دنیا اور اس کی ساری چیزیں دین کی خادم بنادے۔الحکم جلد ۴ نمبر ۲۹ مورخه ۱۶ اگست ۱۹۰۰ صفحه ۳) اسلام تو یہ ہے کہ بکرے کی طرح سر رکھ دے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا مرنا، میرا جینا، میری نماز ، میری قربانیاں اللہ ہی کے لیے ہیں اور سب سے پہلے میں اپنی گردن رکھتا ہوں۔س الحکم جلد ۵ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۱ صفحه ۳) اِنّ الدّينَ عِندَ اللهِ الإِسْلَامُ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تو سچا دین جو نجات کا باعث ہوتا ہے اسلام ہے اگر کوئی عیسائی ہو جاوے یا یہودی ہو یا آریہ ہو وہ خدا کے نزدیک عزت پانے کے لائق نہیں۔ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۳۰ مورخه ۲۴ /اگست ۱۹۰۲ صفحه ۱۰) سچے اسلام کا یہ معیار ہے کہ اس سے انسان اعلیٰ درجہ کے اخلاق پر ہو جاتا ہے اور وہ ایک ممیز شخص ہوتا (البدر جلد نمبر ۳ مورخه ۱۴ /نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۲۳) ابراہیم علیہ السلام کے قصہ پر غور کرو کہ جو آگ میں گرنا چاہتے ہیں تو ان کو ( خدا ) آگ سے بچاتا ہے اور جو خود آگ سے بچنا چاہتے ہیں وہ آگ میں ڈالے جاتے ہیں یہ سلم ہے اور یہ اسلام ہے کہ جو کچھ خدا کی راہ میں پیش آوے اس سے انکار نہ کرے۔(البدر جلد نمبر۷ مورخہ ۱۲ دسمبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۵۳) اسلام اس بات کا نام ہے کہ بجز اس قانون کے جو مقرر ہے ادھر ادھر بالکل نہ جاوے۔البدر جلد ۲ نمبر ۸ مورخه ۱۳/ مارچ ۱۹۰۳ء صفحه ۵۹) اپنے آپ کو ہر آن واحد میں خدا کا محتاج جاننا اور اس کے آستانہ پر سر رکھنا یہی اسلام ہے۔۔۔۔۔اسلام نام ہے، خدا کے آگے گردن جھکا دینے کا۔(البدر جلد ۲ نمبر ۴۶ مورخه ۸ روسمبر ۱۹۰۳ صفحه ۳۶۲) اسلام اس بات کا نام ہے کہ قرآن شریف کی اتباع سے خدا کو راضی کیا جاوے۔البدر جلد ۳ نمبر ۱۵، مورخه ۱۶ را پریل ۱۹۰۴ ، صفحه ۳) اسلام کے سوا اور کوئی دین قبول نہیں ہوسکتا اور یہ نرا دعوی نہیں تاثیرات ظاہر کر رہی ہیں اگر کوئی اہل مذہب اسلام کے سوا اپنے مذہب کے اندر انوار و برکات اور تاثیرات رکھتا ہے تو پھر وہ آئے ، ہمارے ساتھ مقابلہ کر لے اور ہم نے ہمیشہ ایسی دعوت کی ہے، کوئی مقابلہ پر نہیں آیا۔الحکم جلد ۹ نمبر ۴۰، مورخہ ۱۷ نومبر ۱۹۰۵ ءصفحہ ۷)