تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 18 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 18

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸ سورة ال عمران اسلام کے معنے تو یہ تھے کہ انسان خدا کی محبت اور اطاعت میں فنا ہو جاوے اور جس طرح پر ایک بکری کی گردن قصاب کے آگے ہوتی ہے اس طرح پر مسلمان کی گردن خدا تعالیٰ کی اطاعت کے لئے رکھ دی جاوے اور اس کا مقصد یہ تھا کہ خدا تعالیٰ ہی کو وحدہ لاشریک سمجھے۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۶،مورخه ۱۷/اکتوبر ۱۹۰۶ ء صفحه ۵) اسلام کی حقیقت ہی یہ ہے کہ اس کی تمام طاقتیں اندرونی ہوں یا بیرونی سب کی سب اللہ ہی کے آستانہ پرگری ہوئی ہوں۔( حضرت اقدس کی ایک تقریر اور مسئلہ وحدت وجود پر ایک خط صفحه ۱۰ مرتبه شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی) یا درکھو! اسلام ایک موت ہے، جب تک کوئی شخص نفسانی جذبات پر موت وارد کر کے نئی زندگی نہیں پاتا اور خدا ہی کے ساتھ بولتا، چلتا پھرتا سنتا دیکھتا نہیں وہ مسلمان نہیں ہوتا۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۲ مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۰۷ صفحه ۸) سچا رجوع اس وقت ہوتا ہے جبکہ خدا تعالیٰ کی رضاء سے رضاء انسانی مل جاوے۔یہ وہ حالت ہے جہاں انسان اولیا اور ابدال اور مقربین کا درجہ پاتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ سے مکالمہ کا شرف ملتا ہے اور وحی کی جاتی ہے اور چونکہ وہ ہر قسم کی تاریکی اور شیطانی شرارت سے محفوظ ہوتا ہے، ہر وقت اللہ تعالیٰ کی رضا میں زندہ ہوتا ہے۔اس لئے وہ ایک ابدی بہشت اور سرور میں ہوتا ہے انسانی ہستی کا مقصد اعلیٰ اور غرض اسی مقام کا حاصل کرنا ہے۔اور یہی وہ مقصد ہے جو اسلام کے لفظ میں اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے کیونکہ اسلام سے سچی مراد یہی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع اپنی رضا کر لے۔الحکم جلد ۸ نمبر ۳۲ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۴ء صفحه ۴) فَإِن حَاجُوكَ فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلَّهِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ، وَقُلْ لِلَّذِينَ أوتُوا الْكِتَبَ وَالْأَمِينَ وَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوا وَإِنْ تَوَلَّوا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلغُ وَاللهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ ان کو کہہ دے کہ میری راہ یہ ہے کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ اپنا تمام وجود خدا تعالیٰ کو سونپ دوں اور اپنے تیں رب العالمین کے لئے خالص کرلوں یعنی اس میں فنا ہو کر جیسا کہ وہ ربّ العالمین ہے میں خادم