تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 16
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶ سورة ال عمران ترجمہ یعنی دین سچا اور کامل اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسلام ہے اور جو کوئی بجز اسلام کے کسی اور دین کو چاہے گا تو ہرگز قبول نہیں کیا جاوے گا اور وہ آخرت میں زیاں کاروں میں سے ہوگا۔جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۸۵) وہ دین جس میں خدا کی معرفت صحیح اور اس کی پرستش احسن طور پر ہے ، وہ اسلام ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۱۵) إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ - یعنی سب دین جھوٹے ہیں مگر اسلام۔انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحه ۳۱۴ حاشیه ) اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ تمہاری روحیں خدا تعالیٰ کے آستانہ پر گر جائیں اور خدا اور اس کے احکام ہر ایک پہلو کے رُو سے تمہاری دنیا پر تمہیں مقدم ہو جا ئیں۔(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۶۳) اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ اپنی گردن خدا کے آگے قربانی کے بکرے کی طرح رکھ دینا اور اپنے تمام ارادوں سے کھوئے جانا اور خدا کے ارادہ اور رضا میں محو ہوجانا اور خدا میں گم ہو کر ایک موت اپنے پر وارد کر لینا اور اس کی محبت ذاتی سے پورا رنگ حاصل کر کے محض محبت کے جوش سے اس کی اطاعت کرنا نہ کسی اور بنا پر اور ایسی آنکھیں حاصل کرنا جو محض اس کے ساتھ دیکھتی ہوں اور ایسے کان حاصل کرنا جو محض اس کے ساتھ سنتے ہوں اور ایسا دل پیدا کرنا جو سراسر اس کی طرف جھکا ہوا ہو اور ایسی زبان حاصل کرنا جو اس کے بلائے بولتی ہو، یہ وہ مقام ہے جس پر تمام سلوک ختم ہو جاتے ہیں اور انسانی قوی اپنے ذمہ کا تمام کام کر چکتے ہیں اور پورے طور پر انسان کی نفسانیت پر موت وارد ہو جاتی ہے تب خدا تعالی کی رحمت اپنے زندہ کلام اور حمکتے ہوئے نوروں کے ساتھ دوبارہ اُس کو زندگی بخشتی ہے اور وہ خدا کے لذیذ کلام سے مشرف ہوتا ہے اور وہ دقیق در دقیق نور جس کو عقلیں دریافت نہیں کر سکتیں اور آنکھیں اُس کی گنہ تک نہیں پہنچتیں ، وہ خود انسان کے دل سے نزدیک ہو جاتا ہے۔لیکھر لاہور، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۱۶۰) سچا اسلام یہی ہے کہ اللہ تعالی کی راہ میں اپنی ساری طاقتوں اور قوتوں کو مادام الحیات وقف کر دے تا کہ وہ حیات طیبہ کا وارث ہو۔چنانچہ خود اللہ تعالی اس بیہی وقف کی طرف ایما کر کے فرماتا ہے : بلی من أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَةٌ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة : ١١٣)