تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 15 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 15

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵ سورة ال عمران کے حسن و احسان پر اطلاع وافر پیدا کرے کیونکہ کامل درجہ کی محبت یا تو حسن کے ذریعہ سے پیدا ہوتی ہے اور یا احسان کے ذریعہ سے۔(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۸۰ تا ۱۸۲) جب کوئی اپنے مولی کا سچا طالب کامل طور پر اسلام پر قائم ہو جائے اور نہ کسی تکلف اور بناوٹ سے بلکہ طبعی طور پر خدا تعالیٰ کی راہوں میں ہر ایک قوت اس کے کام میں لگ جائے تو آخری نتیجہ اُس کی اس حالت کا یہ ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ کی ہدایت کی اعلیٰ تجلیات تمام تُحجب سے مبرا ہو کر اس کی طرف رُخ کرتی ہیں اور طرح طرح کی برکات اس پر نازل ہوتی ہیں اور وہ احکام اور وہ عقائد جو محض ایمان اور سماع کے طور پر قبول کئے گئے تھے اب بذریعہ مکاشفات صحیحہ اور الہامات یقینیہ قطعیہ، مشہود اور محسوس طور پر کھولے جاتے ہیں اور مغلقات شرع اور دین کے اور اسرار سربستہ ملت حنیفیہ کے اس پر منکشف ہو جاتے ہیں اور ملکوت الہی کا اس کو سیر کرایا جاتا ہے تا وہ یقین اور معرفت میں مرتبہ کامل حاصل کرے اور اس کی زبان اور اس کے بیان اور تمام افعال اور اقوال اور حرکات سکنات میں ایک برکت رکھی جاتی ہے اور ایک فوق العادت شجاعت اور استقامت اور ہمت اس کو عطا کی جاتی ہے اور شرح صدر کا ایک اعلیٰ مقام اس کو عنایت کیا جاتا ہے اور بشریت کے حجابوں کی تنگدلی اور خست اور بخل اور بار بار کی لغزش اور تنگ چشمی اور غلامی شہوات اور ر داعت اخلاق اور ہر ایک قسم کی نفسانی تاریکی بنگلی اس سے دور کر کے اس کی جگہ زبانی اخلاق کا نور بھر دیا جاتا ہے۔تب وہ بنگلی مبدل ہو کر ایک نئی پیدائش کا پیرا یہ پہن لیتا ہے اور خدائے تعالیٰ سے سنتا اور خدائے تعالیٰ سے دیکھتا اور خدائے تعالیٰ کے ساتھ حرکت کرتا اور خدائے تعالیٰ کے ساتھ ٹھہرتا ہے اور اس کا غضب خدائے تعالیٰ کا غضب اور اس کا رحم خدائے تعالیٰ کا رحم ہو جاتا ہے اور اس درجہ میں اس کی دعائیں بطور اصطفاء کے منظور ہوتی ہیں نہ بطور ابتلا کے اور وہ زمین پر حجت اللہ اور امان اللہ ہوتا ہے اور آسمان پر اس کے وجود سے خوشی کی جاتی ہے اور اعلیٰ سے اعلیٰ عطیہ جو اس کو عطا ہوتا ہے مکالماتِ الہیہ اور مخاطبات حضرت یزدانی ہیں جو بغیر شک اور شبہ اور کسی غبار کے چاند کے نور کی طرح اس کے دل پر نازل ہوتے رہتے ہیں اور ایک شدیدالاثر لذت اپنے ساتھ رکھتے ہیں اور طمانیت اور تسلی اور سکینت بخشتے ہیں۔(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۲۷ تا ۲۳۱) قرآن کریم نے اسلام کی نسبت جس کو وہ پیش کرتا ہے یہ فرمایا ہے: إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ ، وَ ج مَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخُسِرِينَ (آل عمران: ٨٢)