تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 289
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۹ سورة النساء فضول ہونے کی وجہ سے اس کے لیے حرام ہو جاتی ہے جو انسان رات دن نفسانی لذات میں مصروف ہے وہ عبادت کا کیا حق ادا کر سکتا ہے مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک تلخ زندگی بسر کرے لیکن عیش و عشرت میں بسر کرنے سے تو وہ اس زندگی کا عشر عشیر بھی حاصل نہیں کر سکتا۔ہمارے کلام کا مقصد یہ ہے کہ دونوں پہلوؤں کا لحاظ رکھا جاوے یہ نہیں کہ صرف لذات کے پہلو پر زور دیا جاوے اور تقویٰ کو بالکل ترک کر دیا جاوے۔اسلام نے جن کاموں اور باتوں کو مباح کہا ہے اس سے یہ غرض ہر گز نہیں ہے کہ رات دن اس میں مستغرق رہے صرف یہ ہے کہ بقدر ضرورت وقت پر ان سے فائدہ اٹھا یا جاوے۔اس مقام پر پھر وہی صاحب بولے کہ اس سے تو یہ نتیجہ نکلا کہ تعداد ازواج بطور دوا کے ہے نہ بطور غذا کے۔حضور نے فرمایا ہاں۔اس پر انہوں نے عرض کی کہ ان اخبار والوں نے تو لکھا ہے کہ احمدی جماعت کو بڑھانے کے لیے زیادہ بیویاں کرو۔حضور نے فرمایا کہ ایک حدیث میں یہ ہے کہ کثرت ازدواج سے اولاد بڑھاؤ تا کہ اُمت زیادہ ہو۔اصل بات یہ ہے کہ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالیاتِ انسان کے ہر عمل کا مدار اس کی نیت پر ہے کسی کے دل کو چیر کر ہم نہیں دیکھ سکتے۔اگر کسی کی یہ نیت نہیں ہے کہ زیادہ بیویاں کر کے عورتوں کی لذات میں فنا ہو بلکہ یہ ہے کہ اس سے خادم دین پیدا ہوں تو کیا حرج ہے لیکن یہ امر بھی مشروط بشرائط بالا ہے مثلاً اگر ایک شخص کی چار بیویاں ہوں اور ہر سال ہر ایک سے ایک ایک اولاد ہو تو چار سال میں سولہ بچے ہوں گے مگر بات یہ ہے کہ لوگ دوسرے پہلو کو ترک کر دیتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ صرف ایک پہلو پر ہی زور دیا جاوے حالانکہ ہمارا یہ منصب ہر گز نہیں ہے۔قرآن شریف میں متفرق طور پر تقویٰ کا ذکر آیا ہے لیکن جہاں کہیں بیویوں کا ذکر ہے وہاں ضرور ہی تقویٰ کا بھی ذکر ہے ادا ئیگی حقوق ایک بڑی ضروری شے ہے اسی لیے عدل کی تاکید ہے اگر ایک شخص دیکھتا ہے کہ وہ حقوق کو ادا نہیں کر سکتا یا اس کی رجولیت کے قومی کمزور ہیں یا خطرہ ہو کہ کسی بیماری میں مبتلا ہو جائے تو اسے چاہیے کہ دیدہ دانستہ اپنے آپ کو عذاب میں نہ ڈالے۔تقویٰ یعنی شرعی ضرورت جو اپنے محل پر ہو اگر موجود ہو تو پہلی بیوی خود تجویز کرتی ہے کہ خاوند اور نکاح کر لے۔آخری نصیحت ہماری یہی ہے کہ اسلام کو اپنی عیاشیوں کے لیے سپر نہ بناؤ کہ آج ایک حسین عورت نظر آئی تو اسے کر لیا کل اور نظر آئی تو اسے کر لیا یہ تو گویا خدا کی گدی پر عورتوں کو بٹھانا اور اُسے بھلا دینا ہوا۔دین تو چاہتا ہے کہ کوئی زخم دل پر ایسا رہے جس سے ہر وقت خدا تعالی یاد آوے ورنہ سلب ایمان کا خطرہ ہے اگر