تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 290 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 290

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۰ سورة النساء صحابہ کرام عورتیں کرنے والے اور انہیں میں مصروف رہنے والے ہوتے تو اپنے سر جنگوں میں کیوں کٹواتے حالانکہ ان کا یہ حال تھا کہ ایک کی انگلی کٹ گئی تو اسے مخاطب ہو کے کہا کہ تو ایک انگلی ہی ہے اگر کٹ گئی تو کیا ہوا۔مگر جو شب و روز عیش و عشرت میں مستغرق ہے وہ کب ایسا دل لاسکتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نمازوں میں اس قدر روتے اور قیام کرتے کہ آپ کے پاؤں پر ورم ہو جا تا صحابہ نے عرض کی کہ خدا نے آپ کے تمام گناہ بخش دیئے ہیں پھر اس قدر مشقت اور رونے کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا کیا میں خدا کا شکر گزار بندہ نہ ہوں۔البدر جلد ۳ نمبر ۲۶ مورخه ۸ جولائی ۱۹۰۴ء صفحہ ۳،۲) تعدد ازواج کا ذکر تھا۔فرمایا کہ شریعت حقہ نے اس کو ضرورت کے واسطے جائز رکھا ہے ایک لائق آدمی کی بیوی اگر اس قسم کی ہے کہ اس سے اولاد نہیں ہو سکتی تو وہ کیوں بے اولا در ہے اور اپنے آپ کو بھی عقیم بنا لے۔ایک عمدہ گھوڑا ہوتا ہے تو اس کی نسل بھی قائم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے انسان کی نسل کو کیوں ضائع کیا جاوے۔پادری لوگ دوسری شادی کو زنا کاری قرار دیتے ہیں تو پھر پہلے انبیاء کی نسبت کیا کہتے ہیں حضرت سلیمان کی کہتے ہیں کئی سو بیویاں تھیں اور ایسا ہی حضرت داؤد کی تھیں۔نیت صحیح ہو اور تقویٰ کی خاطر ہو تو دس ہیں بیویاں بھی گناہ نہیں۔اگر نعوذ باللہ عیسائیوں کے قول کے مطابق ایک سے زیادہ نکاح سب زنا ہیں تو حضرت داؤد کی اولاد سے ہی ان کا خدا بھی پیدا ہوا ہے تب تو یہ نسخہ اچھا ہے اور بڑی برکت والا طریق بدر جلد ۸ نمبر ۷ ۸ ۹ مورخه ۲۴ تا ۳۱ دسمبر ۱۹۰۸ء صفحه ۳) ہے۔( أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ) یہ امر کہ کافروں کی عورتوں اور لڑکیوں کو جولڑائیوں میں ہاتھ آویں لونڈیاں بنا کران سے ہم بستر ہونا تو یہ ایک ایسا امر ہے جو شخص اصل حقیقت پر اطلاع پاوے وہ اس کو ہرگز محل اعتراض نہیں ٹھہرائے گا۔اور اصل حقیقت یہ ہے کہ اس ابتدائی زمانہ میں اکثر چنڈال اور خبیث طبع لوگ ناحق اسلام کے دشمن ہو کر طرح طرح کے دکھ مسلمانوں کو دیتے تھے اگر کسی مسلمان کو قتل کریں تو اکثر اس میت کے ہاتھ پیر اور ناک کاٹ دیتے تھے اور بے رحمی سے بچوں کو بھی قتل کرتے تھے اور اگر کسی غریب مظلوم کی عورت ہاتھ آتی تھی جو اس کو لونڈی بناتے تھے اور اپنی عورتوں میں ( مگر لونڈی کی طرح ) اس کو داخل کرتے تھے اور کوئی پہلو ظلم کا نہیں تھا جو انہوں نے اُٹھا رکھا تھا ایک مدت دراز تک مسلمانوں کو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی حکم ملتار ہا کہ ان لوگوں کی شرارتوں پر صبر کرو مگر آخر کار جب ظلم حد سے بڑھ گیا تو خدا نے اجازت دے دی کہ اب ان شریر لوگوں سے لڑو اور جس قدر وہ زیادتی کرتے ہیں اس سے زیادہ نہ کرو لیکن پھر بھی مثلہ کرنے سے منع کیا یعنی منع فرما دیا کہ کافروں کے کسی مقتول کی ناک کان ہاتھ وغیرہ نہیں کاٹنے چاہئیں اور جس بے عزتی کو مسلمانوں