تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 288
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۸ سورة النساء مجھے دنیا سے کیا غرض میں تو اس مسافر کی طرح گزارہ کرتا ہوں جو اونٹ پر سوار منزل مقصود کو جاتا ہو ریگستان کا راستہ ہو اور گرمی کی سخت شدت کی وجہ سے کوئی درخت دیکھ کر اس کے سایہ میں سستا لے اور جو نہی کہ ذرا پسینہ خشک ہوا ہو وہ پھر چل پڑے جس قدر نبی اور رسول ہوئے ہیں سب نے دوسرے پہلو (آخرت) کو ہی مد نظر رکھا ہوا تھا۔پس جانا چاہیے کہ جو شخص شہوات کی اتباع سے زیادہ بیویاں کرتا ہے وہ مغز اسلام سے دور رہتا ہے۔ہر ایک دن جو چڑھتا ہے اور رات جو آتی ہے اگر وہ تلخی سے زندگی بسر نہیں کرتا اور روتا کم یا بالکل ہی نہیں روتا اور ہنستا زیادہ ہے تو یادر ہے کہ وہ ہلاکت کا نشانہ ہے۔استیفا ء لذات اگر حلال طور پر ہو تو حرج نہیں جیسے ایک شخص مٹو پر سوار ہے اور راستہ میں اسے نہاری وغیرہ اس لیے دیتا ہے کہ اس کی طاقت قائم رہے اور وہ منزل مقصود تک اسے پہنچا دے جہاں خدا تعالیٰ نے سب کے حقوق رکھے وہاں نفس کا بھی حق رکھا ہے کہ وہ عبادت بجالا سکے۔لوگوں کے نزدیک چوری زنا وغیرہ ہی گناہ ہیں اور ان کو یہ معلوم نہیں کہ استیفا ولذات میں مشغول ہونا بھی گناہ ہے۔اگر ایک شخص اپنا اکثر حصہ وقت کا تو عیش و آرام میں بسر کرتا ہے اور کسی وقت اُٹھ کر چار ٹکریں بھی مار لیتا ہے ( یعنی نماز پڑھ لیتا ہے ) تو وہ نمرودی زندگی بسر کرتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ریاضت اور مشقت کو دیکھ کر خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا تو اس محنت میں مر جاوے گا حالانکہ ہم نے تیرے لیے بیویاں بھی حلال کی ہیں یہ خدا تعالیٰ نے آپ کو ایسے ہی فرمایا جیسے ماں اپنے بچہ کو پڑھنے یا دوسرے کام میں مستغرق دیکھ کر صحت کے قیام کے لحاظ سے اسے کھیلنے کودنے کی اجازت دیتی ہے۔خدا تعالیٰ کا یہ خطاب اسی غرض سے ہے کہ آپ تازہ دم ہو کر پھر دین کی خدمت میں مصروف ہوں اس سے یہ مراد ہر گز نہیں کہ آپ شہوات کی طرف جھک جاویں۔نادان معترض ایک پہلو کو تو دیکھتے ہیں اور دوسرے کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔پادریوں نے اس بات کی طرف کبھی غور نہیں کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی میلان کس طرف تھا اور رات دن آپ کس فکر میں رہتے تھے بہت سے ملا اور عام لوگ ان باریکیوں سے ناواقف ہیں اگر ان کو کہا جاوے کہ تم شہوات کے تابع ہو تو جواب دیتے ہیں کیا ہم حرام کرتے ہیں شریعت نے ہمیں اجازت دی ہے تو ہم کرتے ہیں۔ان کو اس بات کا علم نہیں کہ بے محل استعمال سے حلال بھی حرام ہو جاتا ہے۔مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ سے ظاہر ہے کہ انسان صرف عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔پس اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے جس قدر چیز اسے درکار ہے اگر اس سے زیادہ لیتا ہے تو گو وہ شے حلال ہی ہونگر