تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 287
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔۲۸۷ سورة النساء بیویاں کرنے کے سوا اور کوئی کام ہی نہیں۔زنا کا نام ہی گناہ نہیں بلکہ شہوات کا کھلے طور پر دل میں پڑ جانا گناہ ہے دنیاوی تمتع کا حصہ انسانی زندگی میں بہت ہی کم ہونا چاہیے تا کہ فَلْيَضْحَكُوا قَلِيلًا وَلْيَبُكُوا كَثِيرًا یعنی ہنسو تھوڑا اور رؤو بہت کا مصداق بنو لیکن جس شخص کی دنیا وی تمتع کثرت سے ہیں اور وہ رات دن بیویوں میں مصروف ہے اس کو رقت اور رونا کب نصیب ہوگا۔اکثر لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ ایک خیال کی تائید اور اتباع میں تمام سامان کرتے ہیں اور اس طرح سے خدا تعالیٰ کے اصل منشا سے دور جا پڑتے ہیں خدا تعالیٰ نے اگر چہ بعض اشیا جائز تو کر دی ہیں مگر اس سے یہ مطلب نہیں ہے کہ عمر ہی اس میں بسر کی جاوے۔خدا تعالی تو اپنے بندوں کی صفت میں فرماتا ہے يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَ قِيَامًا کہ وہ اپنے رب کے لیے تمام تمام ا رات سجدہ اور قیام میں گزارتے ہیں۔اب دیکھو رات دن بیویوں میں غرق رہنے والا خدا کے منشا کے موافق رات کیسے عبادت میں کاٹ سکتا ہے۔وہ بیویاں کیا کرتا ہے گویا خدا کے لیے شریک پیدا کرتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاں تھیں اور باوجود ان کے پھر بھی آپ ساری ساری رات خدا کی عبادت میں گزارتے تھے ایک رات آپ کی باری عا ئشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھی کچھ حصہ رات کا گزر گیا تو عائشہ کی آنکھ کھلی ، دیکھا کہ آپ موجود نہیں اسے شبہ ہوا کہ شاید آپ کسی اور بیوی کے ہاں گئے ہوں گے اس نے اٹھ کر ہر ایک کے گھر میں تلاش کیا مگر آپ نہ ملے آخر دیکھا کہ آپ قبرستان میں ہیں اور سجدہ میں رو رہے ہیں۔اب دیکھو کہ آپ زندہ اور چاہتی بیوی کو چھوڑ کر مردوں کی جگہ قبرستان میں گئے اور روتے رہے تو کیا آپ کی بیویاں حفظ نفس یا اتباع شہوت کی بنا پر ہو سکتی ہیں ؟ غرض کہ خوب یادرکھو کہ خدا کا اصل منشاء یہ ہے کہ تم پر شہوات غالب نہ آویں اور تقویٰ کی تکمیل کے لیے اگر ضرورت حقہ پیش آوے تو اور بیوی کرلو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تمتع دنیاوی کا یہ حال تھا کہ ایک بار حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ سے ملنے گئے ایک لڑکا بھیج کر اجازت چاہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھجور کی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے جب حضرت عمر اندر آئے تو آپ اٹھ کر بیٹھ گئے حضرت عمر نے دیکھا کہ مکان سب خالی پڑا ہے اور کوئی زینت کا سامان اس میں نہیں ہے ایک کھونٹی پر تلوار لٹک رہی ہے یا وہ چٹائی ہے جس پر آپ لیٹے ہوئے تھے اور جس کے نشان اسی طرح آپ کی پشت مبارک پر بنے ہوئے تھے حضرت عمران کو دیکھ کر رو پڑے آپ نے پوچھا اے عمر تجھ کو کس چیز نے رلایا ؟ عمر نے عرض کی کہ کسر لی اور قیصر تو ستم کے اسباب رکھیں اور آپ جو خدا کے رسول اور دو جہاں کے بادشاہ ہیں اس حال میں رہیں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا۔اے عمر