تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 255 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 255

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۵ سورة ال عمران ہی دنیا کی دولت اور حشمت اور اس کی کیمیا پر لعنت بھیجنا اور بادشاہوں کے قرب سے بے پرواہ ہو جانا اور صرف خدا کو اپنا ایک خزانہ سمجھنا بجز یقین کے ہرگز ممکن نہیں۔نزول المسیح، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۶۸ تا ۴۷۰) وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ اَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَا عِنْدَ رَبِّهِم يُرْزَقُونَ فى فَرِحِيْنَ بِمَا أَللهُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ لا لا يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِم اَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ KI یعنی جو لوگ خدائے تعالیٰ کے راہ میں قتل کئے گئے تم اُن کو مُردے نہ سمجھو بلکہ وہ تو زندہ ہیں اور انہیں اپنے رب کی طرف سے رزق مل رہا ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۲۶) مومن کو فوت ہونے کے بعد بلا توقف بہشت میں جگہ ملتی ہے جیسا کہ ان آیات سے ظاہر ہو رہا ہے۔۔۔۔۔وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَا عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ - فَرِحِينَ بِمَا الهُمُ اللهُ مِن فَضْلِهِ - (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۸۱) یادر ہے کہ اولیاء اللہ اور وہ خاص لوگ جو خدا تعالیٰ کی راہ میں شہید ہوتے ہیں۔وہ چند دنوں کے بعد پھر زندہ کئے جاتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ اختیاری یعنی تم ان کو مردے مت خیال کرو جو اللہ کی راہ میں قتل کئے جاتے ہیں وہ تو زندے ہیں۔وو (تذکرۃ الشہادتین ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۵۷) جو لوگ خدا تعالیٰ کی راہ میں مارے جاتے ہیں ان کی نسبت یہ گمان مت کرو کہ وہ مردہ ہیں بلکہ وہ زندہ ہیں خدا تعالیٰ سے اُن کو رزق ملتا ہے۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۸۸) قرآن شریف صاف طور پر بتاتا ہے کہ کفار جو بار بار عذاب مانگتے ہیں اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا کہ تم پر عذاب بصورت جنگ نازل ہوگا آخر جب وہ سلسلہ عذاب کا شروع ہوا اور کفار کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑائیاں ہونے لگیں تو کون کہہ سکتا ہے؟ کہ ان جنگوں میں صحابہ شہید نہیں ہوئے۔حالانکہ یہ مسلم بات ہے کہ وہ تو کفار پر عذاب تھا اور خاص ان کے ہی لیے آیا تھا مگر صحابہ کو بھی چشم زخم پہنچا اور بعض جو علم الہی میں مقدر تھا شہید ہو گئے۔جن کی بابت خود اللہ تعالیٰ نے فرما یا لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا