تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 254 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 254

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۴ سورة ال عمران یقین کا کون سا تھا؟ سچ ہے کہ قرآن شریف ان کے پاس تھا اور قرآن شریف اس ذوالفقار تلوار کی مانند ہے جس کے دو طرف دھاریں ہیں ایک طرف کی دھار مومنوں کی اندرونی غلاظت کو کاٹتی ہے اور دوسری طرف کی دھار دشمنوں کا کام تمام کرتی ہے مگر پھر بھی وہ تلوار اس کام کے لئے ایک بہادر کے دست و بازو کی محتاج ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ بس قرآن سے جو تزکیہ حاصل ہوتا ہے اس کو اکیلا بیان نہیں کیا بلکہ وہ نبی کی صفت میں داخل کر کے بیان کیا یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا کلام یوں ہی آسمان پر سے کبھی نازل نہیں ہوا بلکہ اس تلوار کو چلانے والا بہادر ہمیشہ ساتھ آیا ہے جو اس تلوار کا اصل جو ہر شناس ہے لہذا قرآن شریف پر سچا اور تازہ یقین دلانے کے لئے اور اس کے جوہر دکھلانے کے لئے اور اس کے ذریعہ سے اتمام حجت کرنے کے لئے ایک بہادر کے دست و بازو کی ہمیشہ حاجت ہوتی رہی ہے اور آخری زمانہ میں یہ حاجت سب سے زیادہ پیش آئی کیونکہ دجالی زمانہ اور کی باہمی نے فرما دیا کہ ہے اور زمین و آسمان کی باہمی لڑائی ہے۔غرض جب خدا تعالیٰ نے فرما دیا کہ جو شخص اس جہان میں اندھا ہے وہ دوسرے جہان میں بھی اندھا ہی ہو گا تو ہر ایک طالب حق کے لئے ضروری ہوا کہ اسی جہاں میں آنکھوں کا نور تلاش کرے اور اس زندہ مذہب کا طالب ہو جس میں زندہ خدا کے انوار نمایاں ہوں۔وہ مذہب مردار ہے جس میں ہمیشہ کے لئے یقینی وحی کا سلسلہ جاری نہیں کیونکہ وہ انسانوں پر یقین کی راہ بند کرتا ہے اور ان کو قصوں کہانیوں پر چھوڑ دیتا ہے اور ان کو خدا سے نومید کرتا اور تاریکی میں ڈالتا ہے اور کیوں کر کوئی مذہب خدا نما ہوسکتا اور کیوں کر گناہوں سے چھڑا سکتا ہے؟ جب تک کوئی یقین کا ذریعہ اپنے پاس نہیں رکھتا اور جب تک سورج نہ چڑھے کیوں کر دن چڑھ سکتا ہے۔پس دنیا میں سچا مذہب وہی ہے جو بذریعہ زندہ نشانوں کے یقین کی راہ دکھلاتا ہے باقی لوگ اس زندگی میں دوزخ میں گرے ہوئے ہیں۔بھلا بتاؤ کہ ظن بھی کوئی چیز ہے جس کے دوسرے لفظوں میں یہ معنی ہیں کہ شائد یہ بات صحیح ہے یا غلط۔یاد رکھو کہ گناہ سے پاک ہونا بجر یقین کے بھی ممکن نہیں۔فرشتوں کی سی زندگی بجو یقین کے کبھی ممکن نہیں۔دنیا کی بے جا عیاشیوں کو ترک کرنا بجر یقین کے کبھی ممکن نہیں۔ایک پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کر لیتا اور خدا کی طرف ایک خارق عادت کشش سے کھینچے جانا بجر یقین کے کبھی ممکن نہیں۔زمین کو چھوڑ نا اور آسمان پر چڑھ جانا بجز یقین کے کبھی ممکن نہیں۔خدا سے پورے طور پر ڈرنا بجز یقین کے کبھی ممکن نہیں۔تقومی کی باریک راہوں پر قدم مارنا اور اپنے عمل کو ریا کاری کی ملونی سے پاک کر دینا بجز یقین کے کبھی ممکن نہیں۔ایسا