تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 256 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 256

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۶ سورة ال عمران في سَبِيلِ اللهِ اَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَا عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ۔یعنی جو لوگ اللہ تعالی کی راہ میں قتل کیے جاویں ان کو مردے مت کہو بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک زندہ ہیں اور اسی جگہ ان کی نسبت فرمایا: فَرِحِينَ بِمَا الهم الله - اب بتاؤ کہ وہ جنگ ایک ہی قسم کا تھا لیکن وہ کفار کے لیے عذاب تھا مگر صحابہ کے لیے باعث شہادت۔اسی طرح پر اب بھی حالت ہے لیکن انجام کار دیکھنا چاہیے کہ طاعون سے فائدہ کس کو رہتا ہے ہم کو یا ہمارے مخالفین کو اس وقت معلوم ہوگا کہ کون کم ہوئے اور کون بڑھے۔احکام جلد ۸ نمبر ۱۸ مورخه ۳۱ رمئی ۱۹۰۴ صفحه ۳) الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوهُم فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ۔ان کو ڈرایا جاتا ہے کہ لوگ تمہیں سزا دینے کے لئے اتفاق کر گئے ہیں۔سو تم لوگوں سے ڈرو۔پس ڈرانے سے اور بھی ان کا ایمان بڑھتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ خدا ہمیں کافی ہے یعنی ان کی شجاعت کتوں اور درندوں کی طرح نہیں ہوتی جو صرف طبعی جوش پر مبنی ہو جس کا ایک ہی پہلو پر میل ہو بلکہ ان کی شجاعت دو پہلو رکھتی ہے کبھی تو وہ اپنی ذاتی شجاعت سے اپنے نفس کے جذبات کا مقابلہ کرتے ہیں اور اس پر غالب آتے ہیں اور کبھی جب دیکھتے ہیں کہ دشمن کا مقابلہ قرین مصلحت ہے تو نہ صرف جوش نفس سے بلکہ سچائی کی مدد کے لئے دشمن کا مقابلہ کرتے ہیں مگر نہ اپنے نفس کا بھروسہ کر کے بلکہ خدا پر بھروسہ کر کے بہادری دکھاتے ہیں۔اس آیت میں ) یہ سمجھایا گیا ہے کہ حقیقی شجاعت کی جڑھ صبر اور ثابت قدمی ہے اور ہر ایک جذ بہ نفسانی یا بلا جو دشمنوں کی طرح حملہ کرے اس کے مقابلہ پر ثابت قدم رہنا اور بزدل ہوکر بھاگ نہ جانا یہی شجاعت ہے۔سوانسان اور درندہ کی شجاعت میں بڑا فرق ہے۔درندہ ایک ہی پہلو پر جوش اور غضب سے کام لیتا ہے اور انسان جو حقیقی شجاعت رکھتا ہے وہ مقابلہ اور ترک مقابلہ میں جو کچھ قرین مصلحت ہو وہ اختیار کر لیتا ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۶۰،۳۵۹) ج وَلَا يَحْزُنُكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ : إِنَّهُم لَن يَضُرُّوا اللهَ شَيْئًا