تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 230 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 230

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۰ سورة ال عمران کے ایک لاکھ سے بھی زیادہ تھے محض ظنی اور شکی امر پر کیوں کر قائل ہو گئے اور کیوں یہ حجت پیش نہ کی کہ یا حضرت یہ آپ کی دلیل نا تمام ہے اور کوئی نص قطعیۃ الدلالت آپ کے ہاتھ میں نہیں۔کیا آپ اب تک اس سے بے خبر ہیں کہ قرآن ہی آیت رَافِعُكَ الى میں حضرت مسیح کا مجسمہ العصر کی آسمان پر جانا بیان فرماتا ہے۔کیا بن دَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ بھی آپ نے نہیں سنا۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمان پر جانا آپ کے نزدیک کیوں مستبعد ہے؟ بلکہ صحابہ نے جو مذاق قرآن سے واقف تھے آیت کو سن کر اور لفظ خَلَتْ کی تشریح نقره آقاین ماتَ أَوْ قُتِلَ میں پا کر فی الفور اپنے پہلے خیال کو چھوڑ دیا۔ہاں ! اُن کے دل آنحضرت کی موت کی وجہ سے سخت غمناک اور چور ہو گئے اور اُن کی جان گھٹ گئی اور حضرت عمر نے فرمایا کہ اس آیت کے سننے کے بعد میری یہ حالت ہوگئی ہے کہ میرے جسم کو میرے پیر اٹھا نہیں سکتے اور میں زمین پر گرا جاتا ہوں۔سبحان اللہ کیسے سعید اور وقاف عند القرآن تھے کہ جب آیت میں غور کر کے سمجھ آگیا کہ تمام گزشتہ نبی فوت ہو چکے ہیں تب بجز اس کے کہ رونا شروع کردیا اور غم سے بھر گئے اور کچھ نہ کہا اور تب حضرت حسان بن ثابت نے یہ مرثیہ کہا: كُنتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِى فَعَيِي عَلَيْكَ عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أَحَاذِرُ یعنی تو میری آنکھ کی پتلی تھا پس میری آنکھیں تو تیرے مرنے سے اندھی ہو گئیں اب تیرے بعد میں کسی کی زندگی کو کیا کروں۔عیسی مرے یا موسیٰ مرے بیشک مر جائیں مجھے تو تیرا ہی غم تھا۔یادر ہے کہ اگر حضرت ابوبکر کی نظر میں حضرت عیسی علیہ السلام موت سے باہر ہوتے تو وہ ہرگز اس آیت کو بطور استدلال پیش نہ کرتے اور اگر صحابہ کو اس آیت کے ان معنوں میں جو تمام نبی فوت ہو چکے ہیں کچھ تر ڈر ہوتا تو وہ ضرور عرض کرتے کہ جس حالت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ بجسم عنصری آسمان پر چلے گئے ہیں تو پھر یہ دلیل نا تمام ہے اور کیا وجہ کہ عیسی کی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی زندہ آسمان پر نہ گئے ہوں لیکن اصل حقیقت یہ معلوم ہوتی ہے کہ حضرت عیسی کی موت کا بھی اُسی دن فیصلہ ہوا اور صحابہ نے اس آیت کوسن کر بعد اس کے کبھی دم نہیں مارا کہ حضرت عیسی زندہ ہیں اور چونکہ صحیح بخاری کے لفظ کلھم سے ثابت ہو گیا کہ اُس وقت سب صحابہ موجود تھے اور کسی نے اس آیت کے سننے کے بعد مخالفت نہ کی اس لئے ماننا پڑا کہ اُن سب کا تمام گزشتہ انبیاء کی موت پر اجماع ہو گیا اور یہ پہلا اجماع تھا جو صحابہ میں ہوا۔اور خلافت ابوبکر