تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 231 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 231

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٢٣١ سورة ال عمران کے اجماع سے جو بعد اس کے ہوا یہ اجتماع بہت بڑھ کر تھا کیونکہ اس میں کسی نے دم نہیں مارا اور خلافت ابوبکر میں ابتدا میں اختلاف ہو گیا تھا۔ہاں! اس جگہ یہ خیال گزرتا ہے کہ اس آیت کے سننے سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حضرت عیسی کی نسبت یہ مذہب تھا کہ باوجود مرجانے کے وہ بھی دنیا میں واپس آئیں گے کیونکہ انہوں نے ان کا رفع اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا رفع ایک ہی طور کا قرار دیا اور جبکہ وہ طور جانتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم تو حضرت عائشہ کے گھر میں ہی اب تک پڑا ہے تو وہ باوجود اقرار مشابہت کے کس طرح اس بات کے قائل ہو سکتے تھے کہ حضرت مسیح کا جسم آسمان پر چلا گیا لیکن آیت کو سن کر یہ خیال بھی انہوں نے چھوڑ دیا اور اس روز تمام صحابہ اس بات پر ایمان لائے کہ اس سے پہلے سب نبی فوت ہو چکے ہیں اور در حقیقت بڑی بے ادبی تھی اور سخت گناہ تھا کہ نبی خاتم الرسل افضل الانبیاء فوت ہو جائیں ان کی میت سامنے پڑی ہو اور کسی دوسرے نبی کی نسبت یہ خیال ہو کہ وہ فوت نہیں ہوا۔در حقیقت یہ خیال اور محبت اور تعظیم رسول کریم ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتی۔ایمانداری اور تقویٰ سے سوچو کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح آسمان پر اُٹھائے گئے ہیں۔اس خیال کا رد بجز اس کے کب ممکن تھا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت مسیح اور تمام گزشتہ نبیوں کی موت ثابت کرتے بھلا اگر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا اس آیت قد خلت کے پڑھنے سے یہ ارادہ نہ تھا کہ حضرت مسیح وغیرہ انبیاء گذشتہ کی موت ثابت کریں تو انہوں نے حضرت عمر کے خیال کا رڈ کیا کیا ؟ حضرت عمر کے اس خیال کا تمام دار مدار حضرت مسیح کے زندہ اٹھائے جانے پر تھا اور معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہ اپنے اجتہاد سے یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ آسمان پر چلے گئے ہیں اور پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو حضرت فاروق رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اگر حضرت مسیح زندہ آسمان پر چلے گئے ہیں تو پھر ہمارے نبی احق و اولی ہیں که زنده آسمان پر چلے جائیں کیونکہ یہ ایک عظیم فضیلت ہے کہ خدا تعالیٰ کسی نبی کو زندہ آسمان پر اپنے پاس بلالے اور بلحاظ طریقت و حسن ادب یہ بات کفر کے رنگ میں تھی کہ ایسا سمجھا جائے کہ گویا حضرت مسیح تو زندہ آسمان پر چلے گئے۔اور وہ نبی جو خاتم الانبیاء اور افضل الانبیاء ہے جس کے وجود باجود کی بہت سی ضرورتیں ہیں وہ عمر طبعی تک بھی نہ پہنچے اگر بے ایمانی اور تعصب مانع نہ ہو تو یہ آیت مذکورہ بالا ایک بڑی نقض صریح اس بات پر ہے کہ تمام صحابہ کا اسی پر اتفاق ہو گیا تھا کہ مسیح وغیرہ تمام گزشتہ انبیاء علیہم السلام فوت ہو چکے