تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 229
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۹ سورة ال عمران الشاکرین تک یہ آیت پڑھ کر سنائی، کہا راوی نے پس بخدا گو یا لوگ اس سے بے خبر تھے کہ یہ آیت بھی خدا نے نازل کی ہے اور ابو بکر کے پڑھنے سے اُن کو پتہ لگا۔پس اس آیت کو تمام صحابہ نے ابوبکر سے سیکھ لیا اور کوئی بھی صحابی یا غیر صحابی باقی نہ رہا جو اس آیت کو پڑھتا نہ تھا اور عمر نے کہا کہ بخدا میں نے یہ آیت ابوبکر سے ہی سنی جب اُس نے پڑھی پس میں اُس کے سننے سے ایسا بے حواس اور زخمی ہو گیا ہوں کہ میرے پیر مجھے اُٹھا نہیں سکتے اور میں اُس وقت سے زمین پر گرا جاتا ہوں جب سے کہ میں نے یہ آیت پڑھتے سنا اور یہ کلمہ کہتے سنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے۔اور اس جگہ قسطلانی شرح بخاری کی یہ عبارت ہے: وَعُمَرُ بن الخطاب يُكَلِّمُ النَّاسَ يَقُولُ لَهُمْ مَامَاتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔۔۔۔وَلَا يَمُوتُ حَتَّى يَقْتُلُ الْمُنَافِقِینَ۔یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں سے باتیں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے اور جب تک منافقوں کو قتل نہ کرلیں فوت نہیں ہوں گے اور ملل منحل شہرستانی میں اس قصہ کے متعلق یہ عبارت ہے۔قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَابِ مَنْ قَالَ أَنَّ مُحَمَّدًا مَات فَقَتَلْتُهُ بِسَيْفِى هَذَا وَإِنَّمَا رُفِعَ إِلَى السَّمَاءِ كَمَارُفِعَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْن قَحَافَةَ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدُمَاتَ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ إلَهَ مُحَمَّدٍ فَإِنَّهُ حَقٌّ لَّا يَمُوتُ وَقَرَءَ هَذِهِ الْآيَةَ وَ مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولُ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَأَبِنَ ماتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ فَرَجَعَ الْقَوْمُ إِلى قَوْلِہ۔دیکھو ملل نحل جلد ثالث۔ترجمہ یہ ہے کہ عمر خطاب کہتے تھے کہ جو شخص یہ کہے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تو میں اپنی اسی تلوار سے اُس کو قتل کر دوں گا بلکہ وہ آسمان پر اُٹھائے گئے ہیں جیسا کہ عیسی بن مریم اُٹھائے گئے اور ابو بکر نے کہا کہ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا ہے تو وہ تو ضر ور فوت ہو گئے ہیں اور جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا کی عبادت کرتا ہے تو وہ زندہ ہے نہیں مرے گا یعنی ایک خدا ہی میں یہ صفت ہے کہ وہ ہمیشہ زندہ ہے اور باقی تمام نوع انسان و حیوان پہلے اس سے مرجاتے ہیں کہ اُن کی نسبت خلود کا گمان ہو اور پھر حضرت ابوبکر نے یہ آیت پڑھی جس کا یہ ترجمہ ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) رسول ہیں اور سب رسول دُنیا سے گزر گئے ، کیا اگر وہ فوت ہو گئے یا قتل کئے گئے تو تم مرتد ہو جاؤ گے تب لوگوں نے اس آیت کوسن کر اپنے خیالات سے رجوع کر لیا۔اب سوچو کہ حضرت ابوبکر کا اگر قرآن سے یہ استدلال نہیں تھا کہ تمام نبی فوت ہو چکے ہیں اور نیز اگر یہ استدلال صریح اور قطعية الدلالت نہیں تھا تو وہ صحابہ جو بقول آپ ج