تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 166 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 166

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۶ سورة ال عمران مستحق ہیں کیونکہ نہ ان کی ماں ہے نہ باپ اور خدا فرماتا ہے: اِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ - اور سوچنے والی بات یہ ہے کہ چونکہ حضرت عیسی کے بے باپ پیدا ہونے سے خلقت کو دھوکہ لگنے کا اندیشہ تھا اس لئے خدا نے آدم علیہ السلام کو بغیر ماں اور باپ کے پیدا کر کے ایک نظیر پہلے ہی سے قائم کر دی تھی لیکن اگر اس کے آسمان پر جانے والی بات بھی صحیح مانی جاوے تو چاہیے تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کی بھی ایک نظیر پیش کر دیتا۔اب بتلاؤ! جبکہ خدا نے آسمان پر جانے کی کوئی نظیر پیش نہیں کی تو پھر اسی سے ہی ثابت ہوتا ہے کہ ان کے آسمان پر جانے والی کہانی محض جھوٹی ہے۔الحکم جلد ۱ نمبر ۳۹ مورخه ۳۱/اکتوبر ۱۹۰۷ صفحه ۶) نصاری نے ایک عقیدہ پکڑا تھا کہ حضرت عیسی چونکہ بن باپ کے ہیں لہذا یہ خصوصیت ان کی خدائی کی پختہ دلیل ہے اور یہ ان کا مسلمانوں پر ایک بھاری اعتراض تھا اور اس سے وہ حضرت عیسی میں ایک خصوصیت ثابت کر کے ان کی خدائی کی دلیل پکڑتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں ان کا یوں منہ توڑا اور ان کا رڈ یوں بیان کیا کہ : إِنَّ مَثَلَ عِیسَی عِنْدَ اللهِ كَمَثَلِ ادم الخ یعنی اگر حضرت عیسی کی پیدائش اعجازی رنگ میں پیش کر کے تم اس کی خدائی کی دلیل ٹھہراتے ہو تو پھر آدم بطریق اولی خدا ہونا چاہیے کیونکہ اس کا نہ باپ نہ ماں، اس طرح سے اول آدم کو بڑا خدا مان لو پھر اس بات کو عیسی کی خدائی کی دلیل ٹھہراتا۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۲ مورخہ ۱۸؍ جولائی ۱۹۰۸ ء صفحہ ۸،۷) تعجب کی بات ہے ایک شخص انسانی جامہ میں ہو اور انسانی لوازم اور عوارض کے ماتحت ہوکس دلیل سے فوق العادۃ انسان اس کو مانا جا سکتا ہے؟ صورت شکل سے یہ پہچانا کہ وہ خدا ہے یہ تو سراسر خیال باطل اور محال ہے اور نصاری بھی اس کے قائل نہیں ہوں گے تو اب بجز اس کے کہ یہ دکھایا جائے کہ اس کے یہ افعال اور اعمال تھے جو انسانی طاقتوں سے بڑھ کر ہیں اور جو اسے خدائی کا منصب دلاتے ہیں اور کوئی مضبوط دلیل اس کی الوہیت کی ہو نہیں سکتی اور یہ سودائے خام ہے۔اسلام آج تک ڈنکے کی چوٹ سے پکار رہا ہے۔اِنَّ مَثَلَ عِیسٰی عِندَ اللهِ كَمَثَلِ آدَمَ یعنی اللہ کے نزدیک جو حقیقی الوہیت کا حقدار ہے، اس لئے کہ جامع جمیع صفات کا ملہ اور ہر قسم کے بشری ضعفوں اور مخلوقی عوارض ولوازم سے منزہ ہے۔ہاں! اللہ تعالیٰ کے نزدیک عیسی آدمی سے کچھ بھی زیادہ نہیں یعنی اس میں سارے وہ لوازم اور عوارض موجود ہیں جو آدمی میں پائے جاتے ہیں۔جو شخص اس کی الوہیت کا مدعی ہے وہ معمولی آدمی سے بڑھ کر خواص اس