تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 165
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۵ سورة ال عمران لازم لاوے۔آدم کے باپ اور ماں دونوں نہیں پس جس حالت میں خدا تعالیٰ کی غیرت نے یہ تقاضا کیا کہ حضرت عیسی میں بے پدر ہونے کی خصوصیت نہ رہے تا ان کی خدائی کے لئے کوئی دلیل نہ ٹھہرائی جائے تو پھر کیوں کر ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ میں چار فوق العادت خصوصیتیں لے قبول کر لی ہوں۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۹۸٬۳۹۷) إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللهِ كَمَثَلِ آدم اگر مسیح بنا باپ کے نہ تھا تو آدم سے مماثلت کیا ہوئی اور وہ کیا اعتراض مسیح پر تھا جس کا یہ جواب دیا گیا۔تواریخی بات بھی یہ ہے کہ یہود آپ کی پیدائش کو اسی لئے ناجائز قرار دیتے تھے کہ آپ کا باپ کوئی نہ تھا اس پر خدا نے یہود کو جواب دیا کہ آدم بھی تو بلا باپ پیدا ہوا تھا بلکہ بلاماں بھی۔بہ اعتبار واقعات کے جو اعتراض ہوا کرتے ہیں ان سے جواب کو دیکھنا چاہیے اور اگر کوئی اسے خلاف قانون قدرت قرار دیتا ہے تو اول قانون قدرت کی حد بست دکھلا دے۔البدر جلد ۲ نمبر ۱۶ مورخه ۸ رمئی ۱۹۰۳ء صفحه ۱۲۲) بغیر نظیر کے کوئی بات نہیں مانی جاتی عیسائیوں نے جب مسیح کے بن باپ ہونے سے اس کی خدائی کا استدلال کیا تو خدا تعالیٰ نے نظیر بتلا کر ان کی بات کو رد کر دیا، فرمایا : إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ أَدَمَ کہ اگر بن باپ ہونے سے انسان خدا ہوسکتا ہے تو آدم کی تو ماں بھی نہ تھی اسے خدا کیوں نہیں مان لیتے۔پس جب نصاری کی اس بات کو خدا نے رد کر دیا تو اگر مسیح بھی واقعی آسمان پر زندہ ہوتا اور عیسائی اسے خدائی کی دلیل گردانتے تو اللہ تعالیٰ اس کا بھی رد کرتا اور چند ایک نظائر پیش کرتا کہ فلاں فلاں اور نبی زندہ آسمان (البدرجلد ۳ نمبر ۱۰ مورخه ۸ / مارچ ۱۹۰۴ء صفحه ۵) اگر بن باپ پیدا ہونے والا خدا ہوسکتا ہے۔تو پھر جس کا ماں اور باپ دونوں نہ ہوں وہ تو بدرجہ اولی خدا ہوگا۔مگر ان کو وہ خدا نہیں مانتے۔اور ایسا ہی بیٹی میں بھی خدائی ماننی چاہیے کیونکہ وہ بانجھ سے پیدا الحکم جلد ۹ نمبر ۴۲ مورخه ۳۰/نومبر ۱۹۰۵ صفحه ۲) اگر بے باپ پیدا ہونا دلیل الوہیت اور امنیت ہے تو پھر حضرت آدم علیہ السلام بدرجہء اولی اس کے پر موجود ہیں۔ہوئے تھے۔۱ (۱) وہ مع جسم عصری آسمان پر چلے گئے (۲) صد ہا سال تک بغیر آب و دانہ کے آسمان پر زندہ رہنے والے ٹھہرے (۳) آسمان پر اتنی مدت تک پیرانہ سالی اور ضعف سے محفوظ رہنے والے ٹھہرے (۴) مدت دراز کے بعد آسمان سے مع ملائک نازل ہونے والے ٹھہرے۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۹۵۔خلاصہ )