تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 167 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 167

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 172 سورة ال عمران میں دکھائے ! یہ بڑا بھاری قرضہ نصاری کی گردن پر ہے اور تیرہ سو برس سے برابر چلا آتا ہے۔ان کی غیرت کا اگر ان میں ہوتی یہ مقتضاء ہونا چاہیے تھا کہ اس خطرناک الزام سے بری ہوتے۔کہاں یہ کہ وہ ایک شخص کو خدا اور الفا امیگا (ALPHA & OMEGA) لے کہیں اور کہاں یہ کہ اسلام مٹی سے بنے ہوئے آدمی سے کسی طرح بھی بڑھ کر اسے نہ مانے اور نہ ماننے دے۔الحکم جلدے نمبر ۲۲ مورخہ ۱۷رجون ۱۹۰۳ء صفحه ۴) اب وہ ابن مریم جس کا روحانی باپ زمین پر بجز معلم حقیقی کے کوئی نہیں جو اس وجہ سے آدم سے بھی مشابہت رکھتا ہے بہت سا خزانہ قرآن کریم کا لوگوں میں تقسیم کرے گا یہاں تک کہ لوگ قبول کرتے کرتے تھک جائیں گے اور لا یقبلۂ احد کا مصداق بن جائیں گے اور ہر یک طبیعت اپنے ظرف کے مطابق پر ہو جائے گی۔وہ خلافت جو آدم سے شروع ہوئی تھی خدائے تعالیٰ کی کامل اور بے تغیر حکمت نے آخر کار آدم پر ہی ختم کر دی یہی حکمت اس الہام میں ہے کہ: اردْتُ أَنْ اسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ آدَمَ یعنی میں نے ارادہ کیا کہ اپنا خلیفہ بناؤں سو میں نے آدم کو پیدا کر دیا چونکہ استدارت زمانہ کا یہی وقت ہے جیسا کہ احادیث صحیحہ اس پر ناطق ہیں اس لئے خدائے تعالیٰ نے آخر اور اول کے لفظ کو ایک ہی کرنے کے لئے آخری خلیفے کا نام آدم رکھا اور آدم اور عیسی میں کسی وجہ سے روحانی مبائت نہیں بلکہ مشابہت ہے: اِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللهِ كَمَثَلِ آدَمَ - (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۶۷) فَمَنْ حَاجَكَ فِيْهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ ابناءَنَا وَ ابْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنْفُسَنَا وَ انْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلُ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللهِ عَلَى الْكَذِبِينَ۔ان کو کہہ دے کہ آؤ! ہم اور تم معہ اپنی عورتوں اور بیٹیوں اور عزیزوں کے مباہلہ کریں پھر ان پر لعنت کریں جو کا ذب ہیں۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۶۵) مباہلہ کے معنے لغت عرب کے رو سے اور نیز شرعی اصطلاح کے رو سے یہ ہیں کہ دو فریق مخالف ایک دوسرے کے لئے عذاب اور خدا کی لعنت چاہیں۔( اربعین، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۳۷۷ حاشیہ) BEGINNING AND THE ENDL