تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 164
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۴ سورة ال عمران مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ وَلكِنَّا لا خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ لیکن نَرَى جَوَابَ خُصُوصِيَّةِ رَفْعِ عِيسَی وَنُزُولِهِ حضرت عیسی کی اس خصوصیت کا کہ وہی آسمان پر في الْقُرْآنِ مَعَ أَنه أَكْبَرُ الثَّلَابِلِ عَلی اُٹھائے گئے تھے پھر اتریں گے کوئی مثال ہمیں قرآن الْوَهِيَّةِ عِيسَى عِندَ أَهْلِ الصُّلْبَانِ۔فَلَو مجید میں نظر نہیں آتی۔باوجود یکہ صلیب پرستوں کے كَانَ أَمْرُ صُعُودِ عِيسَى وَهُبُوطِهِ سَمِيحًا فی نزدیک عیسی کی خدائی کی سب سے بڑی دلیل یہی ہے عِلْمٍ رَبَّنَا الرَّحْمَن لَكَانَ مِنَ الْوَاجِبِ آن پس اگر عیسی کے آسمان پر چڑھنے اور پھر اُترنے کی بات يَذْكُرَ اللهُ مَثِيْلَ عِيسَى فِي هَذِهِ الصَّفَةِ في خدا تعالیٰ کے نزدیک درست ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس الْفُرْقَانِ، كَمَا ذَكَرَ ادَمَ لِيُبْطِلُ بِهِ مُجَةَ صفت میں میسی کے کسی مثیل کا ذکر فرقان مجید میں أَهْلِ الصُّلْبَانِ فَلَا شَكَ أَنَّ في تَرْكِ ضرور کرتا تا اس کے ذریعہ عیسائیوں کی اس دلیل کو الْجَوَابِ إِشْعَارُ بِأَنَّ هَذِهِ الْقِصَّةَ بَاطِلَةٌ لا جھلائے۔پس بلاشبہ ایسی کوئی مثال پیش نہ کرنے کا أَصْلَ لَهَا وَلَيْسَ إِلَّا كَالْهَذْيَانِ مقصد یہ سمجھانا ہے کہ یہ قصہ صریح جھوٹ ہے اس کی (الاستفتاء، حقیقت الوحی، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۶۷۴،۶۷۳) کوئی بنیاد نہیں اور محض بکواس ہے۔( ترجمہ از مرتب ) ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بعض عیسائیوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کی یہ خصوصیت پیش کی تھی کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں تو فی الفور اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کی اس آیت میں جواب ، ديا: إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللهِ كَمَثَلِ آدَمَ - خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ یعنی "عیسی کی مثال آدم کی مثال ہے خدا نے اس کو مٹی سے پیدا کیا پھر اُس کو کہا کہ ” ہو جا۔سو وہ ہو گیا ایسا ہی عیسی بن مریم ، مریم کے خون سے اور مریم کی منی سے پیدا ہوا اور پھر خدا نے کہا کہ ہو جا سو ہو گیا۔پس اتنی بات میں کون سی خدائی اور کون سی خصوصیت اس میں پیدا ہوگئی ! موسم برسات میں ہزار ہا کیڑے مکوڑے بغیر ماں اور باپ کے خود بخو دز مین سے پیدا ہو جاتے ہیں، کوئی اُن کو خدا نہیں ٹھہراتا، کوئی اُن کی پرستش نہیں کرتا، کوئی اُن کے آگے سر نہیں جھکاتا پھر خواہ نخواہ حضرت عیسی علیہ السلام کی نسبت اتنا شور کرنا اگر جہالت نہیں تو اور کیا ہے؟ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۵۱،۵۰) خدا تعالیٰ کے نزدیک عیسی کی مثال آدم کی مثال ہے خدا نے اس کو مٹی سے بنایا پھر کہا کہ ہو جا پس وہ زندہ جیتا جاگتا ہو گیا۔یعنی عیسی علیہ السلام کا بے باپ ہونا کوئی امر خاص اس کے لئے نہیں تا خدا ہونا اس کا