تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 104 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 104

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۴ سورة ال عمران کیا ہے اور اپنے حق میں ویسا ہی استعمال کیا ہے جیسا کہ وہ حضرت عیسی کے حق میں مستعمل تھا تو کیا اس بات کو سمجھنے میں کچھ کسر رہ گئی کہ جیسا کہ آنحضرت صلعم وفات پاگئے ویسا ہی حضرت مسیح ابن مریم بھی وفات پاگئے۔یہ تو ظاہر ہے کہ قرآن کریم کی آیات اور مفہوم آیات میں کسی طور سے تحریف جائز نہیں اور جو کچھ اصل منشاء اور اصل مفہوم اور اصل مراد ہر یک لفظ کی ہے اس سے عمد ا اس کو اور معنوں کی طرف پھیر دینا ایک الحاد ہے جس کے ارتکاب کا کوئی نبی یا غیر نبی مجاز نہیں ہے اس لئے کیوں کر ہوسکتا ہے کہ نبی معصوم بجز حالت تطابق کلی کے جو فی الواقع مسیح کی وفات سے اس کی وفات کو تھی لفظ فلما تو فیتنی کو اپنے حق میں استعمال کر سکتا اور نعوذ باللہ تحریف کا مرتکب ہوتا بلکہ ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم امام المعصومین وسید المحفوظین نے ( رُوحِي فِدَاءُ سَبِيلَة ( لفظ فَلَمَّا تَوَفَّيَتَنى کا نہایت دیانت وامانت کے ساتھ انہیں مقررہ معینہ معنوں کے ساتھ اپنے حق میں استعمال کیا ہے کہ جیسا کہ وہ بعینہ حضرت عیسی کے حق میں وارد ہے۔اب بھائیو! اگر حضرت سید و مولانا بجسده العصری آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں اور فوت نہیں ہوئے اور مدینہ میں ان کا مزار مطہر نہیں تو گواہ رہو کہ میں ایمان لاتا ہوں کہ ایسا ہی حضرت عیسیٰ بھی آسمان کی طرف مجیدہ العصر کی اٹھائے گئے ہوں گے اور اگر ہمارے سید و مولیٰ وسید الکل ختم المرسلين افضل الاولین و الأخرين اول المحبوبين والمقربین در حقیقت فوت ہو چکے ہیں تو آؤ ! خدا تعالیٰ سے ڈرو اور فلما تو فیتنی کے پیارے لفظوں پر غور کرو جو ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے میں اور اس عبد صالح میں مشترک بیان کئے ، جس کا نام مسیح ابن مریم ہے۔بخاری اس مقام میں سورۃ آل عمران کی یہ آیت اتی مُتَوَفِّيكَ کیوں لایا؟ اور کیوں ابن عباس سے روایت کی کہ متوفيك : مُميتك ؟ اس کی وجہ بخاری کے صفحہ ۶۶۵ میں شارح بخاری نے لکھی ہے : هَذِهِ الْآيَةُ مُتَوَفِّيكَ مِنْ سُوْرَةِ إِلِ عِمْرَانَ ذَكَرَهُهُنَا لِمُنَاسَبَةِ فَلَمَّا تَوَفَّيَتَنى یعنی یہ آیت الى متوفيك سورت آل عمران میں ہے اور بخاری نے جو اس جگہ اس آیت کے ابن عباس سے یہ معنے گئے کہ مُتَوَفِّيكَ : لميتك تو اس کا یہ سبب ہے کہ بخاری نے فلما تو فیتنی کے معنی کھولنے کیلئے بوجہ مناسبت یہ فقرہ لکھ دیا ورنہ آل عمران کی آیت کو اس جگہ ذکر کرنے کا کوئی محل نہ تھا۔اب دیکھئے ! شارح نے بھی اس بات کو قبول کر لیا ہے کہ امام بخاری إلى مُتَوَفِّيكَ : مميتك کے لفظ کو شہادت کے طور پر بہ تقریب تفسیر آیت فَلَمَّا تَوفِّيْتَنِي (المائدة :۱۱۸) لایا ہے اور کتاب التفسیر میں جو بخاری نے ان دونوں متفرق آیتوں کو جمع کر کے لکھا ہے تو بجز اس کے اس کا اور کیا مدعا تھا