تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 103
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۳ سورة ال عمران صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ (القمر : ۵۶ ) ہوتے ہیں۔یعنی اگر ان کا کوئی خاص مکان ہے تو یہی مکان ہے کہ خدا تعالیٰ کے قرب کا مکان جو حسب استعداد ان کو ملتا ہے، اب جب کہ قرآن کریم میں رافِعُك اتی ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ میں تجھ کو اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔اگر جسمانی طور پر رفع مراد لیا جائے تو سخت اشکال پیش آتا ہے کیونکہ احادیث صحیحہ بخاری سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح معہ اپنے خالہ زاد بھائی کے دوسرے آسمان پر ہیں۔تو کیا خدا تعالیٰ دوسرے آسمان میں بیٹھا ہوا ہے تا دوسرے آسمان میں ہونا رافِعُكَ اِلَى کا مصداق ہو جائے۔بلکہ اس جگہ روحانی رفع مراد ہے جس کا حسب مراتب ایک خاص آسمان سے تعلق ہے۔بخاری میں حدیث معراج کی پڑھو اور غور سے دیکھو۔اب خلاصہ کلام یہ کہ ان تمام وجوہات کی رو سے قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہے کہ حضرت عیسی وفات پا گئے ہیں بلاشبہ آیت انّی مُتَوَفِّيكَ حضرت عیسی کی وفات پر قطعی الدلالت ہے۔عموم محاورہ قرآن شریف کا اسی پر دلالت کرتا ہے۔بخاری میں حضرت ابن عباس کی روایت سے مُتوفیک کے معنے مُميتك لکھے ہیں اور بخاری نے کسی صحابی کی روایت سے کوئی دوسرے مُتوفیک کے معنے ہرگز اپنی صحیح میں نہیں لکھے اور نہ مسلم نے لکھے ہیں۔بلکہ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ خدا تعالیٰ کے فاعل ہونے اور انسان کے مفعول ہونے کی حالت میں بجر قبض روح کے اور کوئی معنے نہیں ہو سکتے۔اسی بنا پر میں نے ہزار روپیہ کا اشتہار بھی دیا ہے۔اب اگر یہ آیت مسیح ابن مریم کی وفات پر قطعیہ الدلالت نہیں تو دلائل مذکورہ بالا اور نیز دلائل مفصلہ مبسوطہ ازالہ اوہام کا جواب دینا چاہئے تا آپ کو ہزار روپیہ بھی مل جائے اور اپنے بھائیوں میں علمی شہرت بھی حاصل ہو جائے۔الحق مباحثہ دہلی ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۲۱۴ تا ۲۱۶) دوسری دلیل مسیح ابن مریم کی وفات پر خود جناب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے جس کو امام بخاری اپنی کتاب التفسیر میں اسی غرض سے لایا ہے کہ تا یہ ظاہر کرے کہ لما توفیتَنِی کے معنے لَمَّا آمَتَنِی ہے اور نیز اسی غرض سے اس موقعہ پر ابن عباس کی روایت سے مُتَوَفِّيكَ : مُبيتُک کی بھی روایت لایا ہے تا ظاہر کرے کہ لما توفیتَنِی کے وہی معنی ہیں جو انی متوفیک کے معنی ابن عباس نے ظاہر فرمائے ہیں۔اس مقام پر بخاری کو غور سے دیکھ کر ادنی درجہ کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ تو فیتنی کے معنی امنننی ہیں یعنی تو نے مجھے مار دیا۔اس میں تو کچھ شبہ نہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں اور مدینہ منورہ میں آپ کا مزار موجود ہے۔پھر جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی لفظ فلما توفیتنی کا حدیث بخاری میں اپنے لئے اختیار 119