تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 105
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۵ سورة ال عمران کہ وہ حضرت عیسی کی وفات خاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول سے ثابت کر چکا ہے۔اب جب کہ اصح الکتاب کی حدیث مرفوع متصل سے جس کے آپ طالب تھے حضرت عیسی کی وفات ثابت ہوئی اور قرآن کی قطعیۃ الدلالت شہادت اس کے ساتھ متفق ہوگئی اور ابن عباس جیسے صحابی نے بھی موت مسیح کا اظہار کر دیا تو اس دوہرے ثبوت کے بعد اور کس ثبوت کی حاجت رہی؟ میں اس جگہ اور دلائل لکھنا نہیں چاہتا۔میری کتاب ازالہ اوہام موجود ہے آپ اس کو رد کر کے دکھلاویں۔خود حق کھل جائے گا۔حضرت عیسی وفات پاچکے اب آپ کسی طور سے ان کو زندہ نہیں کر سکتے۔الحق مباحثہ دہلی ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۲۱۶ تا ۲۱۸) بعض نادان خیال کرتے ہیں کہ آیت انی متوفیک میں صرف حضرت مسیح کی وفات کا وعدہ ہے جس سے صرف اس قدر نکلتا ہے کہ کسی وقت خدا تعالیٰ مسیح کو وفات دے دے گا، یہ تو نہیں نکلتا کہ وفات دے بھی دی مگر یہ لوگ نہیں سوچتے کہ خدا تعالیٰ نے اس وعدہ کے پورا ہونے کی بھی تو خبر دے دی جب کہ خود حضرت مسیح کی زبان سے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى (المائدة : ۱۱۸) کا ذکر بیان فرما دیا۔ماسوا اس کے یہ بھی سوچنے کے لائق ہے کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ کہ میں ایسا کرنے کو ہوں، خود یہ الفاظ دلالت کرتے ہیں کہ وہ وعدہ جلد پورا ہونے والا ہے اور اس میں کچھ توقف نہیں ، نہ یہ کہ رفع کا وعدہ تو اسی وقت پورا ہو جائے لیکن وفات دینے کا وعدہ ابھی تک جو دو ہزار برس کے قریب گزر گئے پورا ہونے میں نہ آوے۔(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۴۶،۴۵) وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ اللهَ قَدْ رَدَّ عَلى تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں تمہارے أَقْوَالِكُمْ فِي كِتَابِهِ وَذَكَرَ مَوْتَ اقوال کی تردید کی ہے اور مسیح علیہ السلام کی موت کو اسی طرح الْمَسِيحِ بِلَفْظِ التَّوَى كَمَا ذَكَرَ مَوْتَ تولی کے لفظ کے ساتھ بیان کیا ہے جیسے اس نے ہمارے نبينا بِذلِك اللَّفْظِ فَأَنْتُمْ تُؤَوّلُونَ نبي ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی وفات کو اسی لفظ کے ساتھ ذکر ذلِكَ اللفظ فِي الْمَسِيحَ وَأَمَّا فِي سَيّدِنَا فرمایا۔تم حضرت مسیح کے بارے میں تو اس لفظ کی تاویل فَلَا تُوَوّلُونَهُ فَتِلْكَ إِذَا قِسْمَةٌ ضِيری کرتے ہو لیکن رسول کریم صلی اللہ وسلم کے بارے میں وَخِيَانَةٌ فِي دِينِ اللهِ - اس کی تاویل نہیں کرتے یہ تو ناقص تقسیم اور اللہ تعالیٰ کے تحفہ بغداد، روحانی خزائن جلد۷ صفحه ۲۰) دین میں خیانت ہے۔(ترجمہ از مرتب )