تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 94
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۴ سورة ال عمران معنوں پر اطلاق کر کے ایسا کھول دیا ہے کہ اب اس کے ان معنوں میں کہ روح قبض کرنا اور جسم کو چھوڑ دینا ہے ایک ذرہ شک و شبہ کی جگہ نہیں رہی۔بلکہ یہ اول درجہ کے بینات اور مطالب صریحہ ظاہرہ بدیہہ میں سے ہو گیا جس کو قطع اور یقین کا اعلیٰ مرتبہ حاصل ہے جس سے انکار کرنا بھی اول درجہ کی نادانی ہے۔اب قرآن کریم میں اس لفظ کی تشریح کرنے میں صرف دو بیل ہیں تیسرا کوئی سبیل نہیں۔(۱) دائمی طور پر روح کو قبض کر کے جسم کو بریکار چھوڑ دینا، جس کا دوسرے لفظوں میں امامت نام ہے یعنی مار دینا۔(۲) دوسرے کچھ تھوڑی مدت کے لئے روح کا قبض کرنا اور جسم کو بریکار چھوڑ دینا، جس کا دوسرے لفظوں میں انامت نام ہے یعنی سُلا دینا۔لیکن ظاہر ہے کہ محل متنازعہ فیہ سے دوسرے قسم کے معنے کو کچھ تعلق نہیں۔کیونکہ سونا اور پھر جاگ اُٹھنا ایک معمولی بات ہے جب تک انسان سویا رہا روح اس کی خدائے تعالیٰ کے قبضہ میں رہی اور جب جاگ اُٹھا تو پھر روح اس جسم میں آگئی جو بطور بیکار چھوڑا گیا تھا۔یہ بات صفائی سے سمجھ میں آسکتی ہے کہ جبکہ توفی کے لفظ سے صرف روح کا قبضہ میں کر لینا مراد ہے بغیر اس کے جو جسم سے کچھ سروکار ہو بلکہ جسم کا بریکار چھوڑ دینا توئی کے مفہوم میں داخل ہے تو اس صورت میں اس سے بڑھ کر اور کوئی حماقت نہیں کہ توفی کے یہ معنے کئے جائیں کہ خدائے تعالیٰ جسم کو اپنے قبضہ میں کر لیوے کیونکہ اگر یہ معنے صحیح ہیں تو نمونہ کے طور پر قرآن کریم کے کسی اور مقام میں بھی ایسے معنے ہونے چاہیئیں مگر ابھی ہم ظاہر کر چکے ہیں کہ قرآن کریم اول سے آخر تک صرف یہی معنے ہر یک جگہ مراد لیتا ہے کہ روح کو قبض کر لینا اور جسم سے کچھ تعلق نہ رکھنا بلکہ اس کو بیکار چھوڑ دینا۔مگر فرض کے طور پر اگر مسیح ابن مریم کے محل وفات میں دوسرے معنے مراد لیں تو اُن کا ماحصل یہ ہوگا کہ میسیج کچھ مدت تک سو یا ر ہا اور پھر جاگ اُٹھا۔پس اس سے تو ثابت نہ ہو سکا کہ جسم آسمان پر چلا گیا۔کیا جولوگ رات کو یا دن کو سوتے ہیں تو اُن کا جسم آسمان پر چلا جایا کرتا ہے؟ سونے کی حالت میں جیسا کہ ابھی میں بیان کر چکا ہوں صرف تھوڑی مدت تک روح قبض کر لی جاتی ہے، جسم کے اٹھائے جانے سے اس کو علاقہ ہی کیا ہے؟ ابھی میں بیان کر چکا ہوں کہ نصوص ظاہرہ متواترہ صریحہ قرآن کریم نے توفی کے لفظ کو صرف روح تک محدود رکھا ہے یعنی روح کو اپنے قبضہ میں کر لینا اور جسم کو بیکار چھوڑ دینا اور جبکہ یہ حال ہے تو پھر توفی کے لفظ سے یہ نکالنا کہ گو یا خدائے تعالیٰ نے نہ صرف مسیح ابن مریم کی روح کو اپنی طرف اٹھایا بلکہ اس کے جسم عنصری کو بھی ساتھ