تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 95 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 95

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۹۵ سورة ال عمران ہی اٹھالیا۔یہ کیسا سخت جہالت سے بھرا ہوا خیال ہے جو صریح اور بدیہی طور پر نصوص ہینہ قرآن کریم کے مخالف ہے۔قرآن کریم نے نہ ایک بار نہ دوبار بلکہ پچیس بار فرما دیا کہ توفی کے لفظ سے صرف قبض روح مراد ہے جسم سے کچھ غرض نہیں۔پھر اگر اب بھی کوئی نہ مانے تو اس کو قرآن کریم سے کیا غرض ؟ اس کو تو ا صاف یہ کہنا چاہئے کہ میں اپنے چند موہومی بزرگوں کی لکیر کو کسی حالت میں چھوڑ نا نہیں چاہتا۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۹۰ تا ۳۹۲) خدائے تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے کہ کوئی شخص میری طرف بغیر مرنے کے آ نہیں سکتا۔لیکن کچھ ٹھیک نہیں کہ میسیج اس کی طرف اُٹھایا گیا سودہ ضرور مر گیا۔خدائے تعالیٰ نے اپنی پاک کلام میں اس کو ابی مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ اِلَی سے پکارا ہے۔سولفظ متوفّی جن عام معنوں سے تمام قرآن اور حدیثوں میں مستعمل ہے وہ یہی ہے کہ روح کو قبض کرنا اور جسم کو معطل چھوڑ دینا۔یہ بڑے تعصب کی بات ہے کہ تمام جہان کے لئے تو توفی کے یہی معنے روح قبض کرنے کے ہوں لیکن مسیح ابن مریم کے لئے جسم قبض کرنے کے معنے لئے جاویں۔کیا ہم خاص عیسی کے لئے کوئی نئی لغت بنا سکتے ہیں جو بھی اللہ اور رسول کے کلام میں مستعمل نہیں ہوئی اور نہ عرب کے شعراء اور زبان دان بھی اس کو استعمال میں لائے۔پھر جس حالت میں توفی کے یہی شائع متعارفہ معنے ہیں کہ روح قبض کی جائے خواہ بطور ناقص یا بطور تام۔تو پھر رفع سے رفع جسد کیوں مراد لیا جاتا ہے؟ ظاہر ہے کہ جس چیز پر قبضہ کیا جائے گا رفع بھی اُسی کا ہوگا۔نہ یہ کہ قبض تو روح کا ہو اور جسم کا رفع کیا جائے۔غرض برخلاف اس متبادر اور مسلسل معنوں کے جو قرآن شریف سے توفی کے لفظ کی نسبت اوّل سے آخر تک سمجھے جاتے ہیں ایک نئے معنے اپنی طرف سے گھڑنا یہی تو الحاد اور تحریف ہے۔خدائے تعالی مسلمانوں کو اس سے بچاوے اگر یہ کہا جاوے کہ توفی کے معنے تفسیروں میں کئی طور سے کئے گئے۔تو میں کہتا ہوں کہ وہ مختلف اور متضاد اقوال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان سے نہیں لئے گئے ورنہ ممکن نہ تھا کہ وہ بیان جو چشمہ وحی سے نکلا ہے اس میں اختلاف اور تناقض راہ پا سکتا بلکہ وہ مفسرین کے صرف اپنے اپنے بیانات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ بھی اُن کا کسی خاص معنے پر اجماع نہیں ہوا۔اگر ان میں سے کسی کو وہ بصیرت دی جاتی جو اس عاجز کو دی گئی تو ضرور اسی ایک بات پر اُن کا اجماع ہو جاتا لیکن خدائے تعالیٰ نے اس قطعی اور یقینی علم سے اُن کو محروم رکھاتا اپنے ایک بندہ کو کامل طور پر یہ علم دے کر آدم صفی اللہ کی طرح اس کی علمی فضیلت کا ایک نشان ظاہر کرے۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۰۲،۵۰۱)