تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 93
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۳ سورة ال عمران حاجات کے موافق بعض الفاظ کو متعدد معنوں سے مجز دکر کے کسی ایک معنی سے مخصوص کر لیتے ہیں۔مثلاً طبابت کے فن کو دیکھئے کہ بعض الفاظ جو کئی معنے رکھتے تھے صرف ایک معنے میں اصطلاحی طور پر محصور ومحدود رکھے گئے ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ کوئی علم بغیر اصطلاحی الفاظ کے چل ہی نہیں سکتا۔پس جو شخص الحاد کا ارادہ نہیں رکھتا اس کے لئے سیدھی راہ یہی ہے کہ قرآن شریف کے معنے اس کے مروجہ اور مصطلحہ الفاظ کے لحاظ سے کرے دور نہ تفسیر بالرائے ہوگی۔اگر یہ کہا جائے کہ اگر توفی کے معنے الفاظ مروجہ قرآن میں عام طور پر قبض روح ہی ہے تو پھر مفتروں نے اس کے برخلاف اقوال کیوں لکھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ موت کے معنے بھی تو وہ برابر لکھتے چلے آئے ہیں۔اگر ایک قوم کا ان معنوں پر اجماع نہ ہوتا تو کیوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے آج تک جو تیرہ سو برس گزر گئے یہ معنے تفسیروں میں درج ہوتے چلے آئے۔سو ان معنوں کا مسلسل طور پر درج ہوتے چلے آنا صریح اس بات پر دلیل ہے کہ صحابہ کے وقت سے آج تک ان معنوں پر اجماع چلا آیا ہے۔رہی یہ بات کہ پھر دوسرے معنے انہیں تفسیروں میں کیوں لکھے گئے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ بعض لوگوں کی غلط رائے ہے اور اس رائے کی غلطی ثابت کرنے کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ رائے سراسر قرآن شریف کے منشاء کے برخلاف ہے۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۵۰،۳۴۹) مسیح ابن مریم کی وفات کے بارہ میں اگر خدائے تعالیٰ قرآن شریف میں کسی ایسے لفظ کو استعمال کرتا جس کو اس نے مختلف معنوں میں استعمال کیا ہوتا تو کسی خائن کو خیانت کرنے کی گنجائش ہوتی۔سوخیانت پیشہ لوگوں کا خدا تعالیٰ نے ایسا بندو بست کیا کہ توفی کے لفظ کو جو حضرت عیسی کی وفات کے لئے استعمال کیا گیا تھا بچیں جگہ پر ایک ہی معنی پر استعمال کیا اور اس کو ایک اصطلاحی لفظ بنا کر ہر یک جگہ میں اس کے یہ معنے لئے ہیں کہ روح کو قبض کر لینا اور جسم کو بے کار چھوڑ دینا۔تا یہ لفظ اس بات پر دلالت کرے کہ روح ایک باقی رہنے والی چیز ہے جو بعد موت اور ایسا ہی حالت خواب میں بھی خدائے تعالیٰ کے قبضہ میں آجاتی ہے اور جسم پر فنا طاری ہوتی ہے مگر روح پر نہیں۔اور چونکہ یہی معنی بالالتزام ہر ایک محل میں جہاں توفی کا لفظ آیا ہے لئے گئے اور ان سے خروج نہیں کیا گیا اس لئے یہ معنے نصوص صریحہ بینہ ظاہرہ قرآن کریم میں سے ٹھہر گئے جن سے انحراف کرنا الحاد ہوگا کیونکہ یہ مسلم ہے کہ النُّصُوصُ يُحْمَلُ عَلَى ظَوَاهِرِهَا۔پس قرآن کریم نے توفی کے لفظ کو جو محل متنازعہ فیہ میں یعنی مسیح کی وفات کے متعلق ہے تیئیس جگہ ایک ہی