تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 81 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 81

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ΔΙ سورة البقرة في قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللهُ مَرَضًا جب خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ کوئی معجزہ اُن سے ظاہر ہو تو اُن کے دلوں میں ایک جوش پیدا کر دیتا ہے اور ایک امر کے حصول کے لئے سخت کرب اور قلق اُن کے دلوں میں پیدا ہو جاتا ہے تب وہ بے نیازی کا برقع اپنے منہ پر سے اُتار لیتے ہیں اور وہ حُسن اُن کا جو بجز خدا تعالیٰ کے کوئی نہیں دیکھتا وہ آسمان کے فرشتوں پر اور ذرہ ذرہ پر نمودار ہو جاتا ہے۔اور اُن کا منہ پر سے برقع اٹھانا یہ ہے کہ وہ اپنے کامل صدق اور صفا کے ساتھ اور اس رُوحانی حسن کے ساتھ جس کی وجہ سے وہ خدا کے محبوب ہو گئے ہیں اس خدا کی طرف ایک ایسا خارق عادت رجوع کرتے ہیں اور ایک ایسے اقبال علی اللہ کی اُن میں حالت پیدا ہو جاتی ہے جو خدا تعالیٰ کی فوق العادت رحمت کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور ساتھ ہی ذرہ ذرہ اس عالم کا کھنچا چلا آتا ہے۔اور اُن کی عاشقانہ حرارت کی گرمی آسمان پر جمع ہوتی اور بادلوں کی طرح فرشتوں کو بھی اپنا چہرہ دکھا دیتی ہے اور اُن کی دردیں جو رعد کی خاصیت اپنے اندر رکھتی ہیں ایک سخت شور ملاء اعلیٰ میں ڈال دیتی ہیں تب خدا تعالیٰ کی قدرت سے وہ بادل پیدا ہو جاتے ہیں جن سے رحمت الہی کا وہ مینہ برستا ہے جس کی وہ خواہش کرتے ہیں۔(براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۲۱، ۲۲۲) انبیاء علیہم السلام کی خاصیت ہوتی ہے کہ مومن اور کافران کے طفیل سے اپنے کفر اور ایمان میں کمال کرتے ہیں۔لکھا ہے کہ ابو جہل کا کفر پورا نہ ہوتا اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہ آتے۔پہلے اس کا کفر مخفی تھا لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پر اس کا اظہار ہو گیا۔اسی طرح حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا صدق بھی مخفی تھا جو اس وقت ظاہر ہوا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے روحانی دعوت کی ایک نے اس دعوت کو قبول کیا اور دوسرے نے انکار کر دیا۔ایسے ہی لوگوں کے لئے اللہ تعالی قرآن شریف میں فرماتا ہے فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللهُ مَرَضًا - انبیاء ورسل آکر اس خباثت اور شقاوت کو جوان کے اندر ہوتی ہے ظاہر کر دیتے ہیں۔احکم جلد ۹ نمبر ۳۸ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۵ صفحه ۴) جب کوئی ابتلا اور آزمائش آتی ہے تو وہ انسان کو ننگا کر کے دکھا دیتی ہے۔اُس وقت وہ مرض جو دل میں ہوتی ہے اپنا پورا اثر کر کے انسان کو ہلاک کر دیتی ہے فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللهُ مَرَضًا۔یہ مرض ابتلا ہی کے وقت بڑھتی اور اپنا پورا زور دکھاتی ہے۔خدا تعالیٰ کی یہ بھی عادت ہے کہ وہ دلوں کی مخفی قوتوں کو ظاہر کر دیتا ہے، جو شخص اپنے دل میں ایک نور رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا صدق اور اخلاص ظاہر کر دیتا ہے اور جو دل میں خبث اور شرارت رکھتا ہے اس کو بھی کھول کر دکھا دیتا ہے اور کوئی بات چھپی ہوئی نہیں رہ سکتی۔الحکم جلد ۱۰ نمبر امورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۶ صفحه ۵)