تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 82 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 82

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۲ سورة البقرة نرا بدیوں سے بچنا کوئی کمال نہیں ہماری جماعت کو چاہئے کہ اسی پر بس نہ کرے نہیں بلکہ انہیں دونو کمال حاصل کرنے کی سعی کرنی چاہئے جس کے لئے مجاہدہ اور دُعا سے کام لیں یعنی بدیوں سے بچیں اور نیکیاں کریں۔ہماری جماعت کو چاہئے کہ وہ خدا کو سادہ نہ سمجھ لے کہ وہ مکر وفریب میں آ جائے گا۔جو شخص سفلہ طبع ہوکر خدا تعالیٰ کو دھوکہ دینا چاہتا ہے اور نیکی اور راست بازی کی چادر کے نیچے فریب کرتا ہے وہ یادر کھے کہ خدا تعالیٰ اسے اور کبھی رُسوا کرے گا۔فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللهُ مَرَضًا ایسے ہی لوگوں کے لئے فرمایا ہے۔نفاق اور ریا کاری کی زندگی لعنتی زندگی ہے یہ چھپ نہیں سکتی۔آخر ظاہر ہو کر رہتی ہے اور پھر سخت ذلیل کرتی ہے۔خدا تعالیٰ کسی چیز کو چھپاتا نہیں نہ نیکی کو نہ بدی کو۔بچے کو کار اپنی نیکیوں کو چھپاتے ہیں مگر خدا تعالیٰ انہیں ظاہر کر دیتا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب حکم ہوا کہ تو پیغمبر ہو کر فرعون کے پاس جا تو انہوں نے عذر ہی کیا اس میں ستر یہ تھا کہ جو لوگ خدا کے لئے پورا اخلاص رکھتے ہیں وہ نمود اور ریا سے بالکل پاک ہوتے ہیں۔سچے اخلاص کی یہی نشانی ہے کہ کبھی خیال نہ آوے کہ دنیا ہمیں کیا کہتی ہے۔جو شخص اپنے دل میں اس امر کا ذرا بھی شائبہ رکھتا ہے وہ بھی شرک کرتا ہے۔(احکم جلد ۱۰ نمبر ۲۵ مورخہ ۱۷؍جولائی ۱۹۰۶ صفحه ۳) وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ أَلَا إِنَّهُمُ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَكِنْ لا يَشْعُرُونَ۔اور جب ان کو کہا جائے کہ تم زمین میں فساد مت کرو اور کفر اور شرک اور بد عقیدگی کومت پھیلاؤ تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ہی راستہ ٹھیک ہے اور ہم مفسد نہیں ہیں بلکہ مصلح اور ریفارمر ہیں۔خبر دار ر ہو! یہی لوگ مفسد ہیں جو زمین پر فساد کر رہے ہیں۔( برامین احمد به چهار تصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۲۰۴ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) وَ إِذَا قِيلَ لَهُمُ امِنُوا كَمَا أَمَنَ النَّاسُ قَالُوا أَنُؤْ مِنْ كَمَا أَمَنَ السُّفَهَاءُ الا اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَكِنْ لا يَعْلَمُونَ۔اور جب اُن کو کہا جائے کہ ایمان لاؤ جیسے لوگ ایمان لائے ہیں۔تو وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم ایسا ہی ایمان لاویں جیسے بے وقوف ایمان لائے ہیں؟ خبر دار ہوا وہی بے وقوف ہیں مگر جانتے نہیں۔(براہین احمدیہ چہار حص، روحانی خزائن جلد اصفحہ ۶۰۷ حاشیه در حاشیہ نمبر ۳) لا وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا أَمَنَا وَ إِذَا خَلَوْا إِلَى شَيْطِيْنِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ