تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 80 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 80

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۸۰ سورة البقرة حرکت نا قصہ وہ ہے جو روح القدس کی تحریک سے عقل اور فہم تو کسی قدر تیز ہو جاتا ہے مگر باعث عدم سلامت استعداد کے وہ روبحق نہیں ہوسکتا بلکہ مصداق اس آیت کا ہو جاتا ہے کہ فِي قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مرضا یعنی عقل اور فہم کے جنبش میں آنے سے پچھلی حالت اُس شخص کی پہلی حالت سے بدتر ہو جاتی ہے جیسا کہ تمام نبیوں کے وقت میں یہی ہوتا رہا کہ جب اُن کے نزول کے ساتھ ملائک کا نزول ہوا تو ملائکہ کی اندرونی تحریک سے ہر یک طبیعت عام طور پر جنبش میں آگئی تب جو لوگ راستی کے فرزند تھے وہ اُن راستبازوں کی طرف کھنچے چلے آئے اور جو شرارت اور شیطان کی ذریت تھے وہ اس تحریک سے خواب غفلت سے جاگ تو اُٹھے اور دینیات کی طرف متوجہ بھی ہو گئے لیکن باعث نقصان استعداد حق کی طرف رخ نہ کر سکے سوفعل ملائک کا جور بانی مصلح کے ساتھ اُترتے ہیں ہر یک انسان پر ہوتا ہے لیکن اس فعل کا نیکوں پر نیک اثر اور بدوں پر بداثر پڑتا ہے۔باران که در لطافت طبعش خلاف نیست در باغ لاله روید در شوره بوم و خس اور جیسا کہ ہم ابھی اوپر بیان کر چکے ہیں یہ آیت کریمہ فی قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا اى مختلف طور کے اثر کی طرف اشارہ کرتی ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۵۵ تا ۱۵۷) ان کے دلوں میں مرض تھی خدا تعالیٰ نے اس مرض کو زیادہ کیا یعنی امتحان میں ڈال کر اس کی حقیقت ظاہر کردی۔جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۳۴) جیسا کہ خدائے کریم بے نیاز ہے اس نے اپنے برگزیدوں میں بھی بے نیازی کی صفت رکھ دی ہے۔سو وہ خدا کی طرح سخت بے نیاز ہوتے ہیں اور جب تک کوئی پوری خاکساری اور اخلاص کے ساتھ اُن کے رحم کے لئے ایک تحریک پیدا نہ کرے وہ قوت اُن کی جوش نہیں مارتی اور عجیب تریہ کہ وہ لوگ تمام دنیا سے زیادہ تر رحم کی قوت اپنے اندر رکھتے ہیں۔مگر اُس کی تحریک اُن کے اختیار میں نہیں ہوتی گوہ بارہا چاہتے بھی ہیں کہ وہ قوت ظہور میں آوے مگر بجز ارادہ الہیہ کے ظاہر نہیں ہوتی۔بالخصوص وہ منکروں اور منافقوں اور سست اعتقاد لوگوں کی کچھ بھی پروا نہیں رکھتے اور ایک مرے ہوئے کیڑے کی طرح اُن کو سمجھتے ہیں اور وہ بے نیازی ان کی ایک ایسی شان رکھتی ہے جیسا کہ ایک معشوق نہایت خوبصورت برقع میں اپنا چہرہ چھپائے رکھے۔اور اسی بے نیازی کا ایک شعبہ یہ ہے کہ جب کوئی شریر انسان اُن پر بدظنی کرے تو بسا اوقات بے نیازی کے جوش سے اُس بڈھنی کو اور بھی بڑھا دیتے ہیں کیونکہ تخلق بأخلاق اللہ رکھتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: