تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 77 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 77

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام LL سورة البقرة نہیں ہیں نہ وہ ہدایت قرآنی سے کچھ نفع اٹھاتے ہیں اور نہ یہ ضرور ہے کہ خواہ نخواہ ان تک ہدایت پہنچ جائے۔خلاصہ جواب یہ ہے کہ جس حالت میں دنیا میں دو طور کے آدمی پائے جاتے ہیں۔بعض متقی اور طالب حق جو ہدایت کو قبول کر لیتے ہیں اور بعض مفسد الطبع جن کو نصیحت کرنا نہ کرنا برابر ہوتا ہے۔b (براہین احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۰۲،۲۰۱) خَتَمَ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَ عَلَى سَمْعِهِمْ وَ عَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيم ن خدا تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ انسان اپنے نفس پر آپ ظلم کرتا ہے۔عادۃ اللہ یہ ہے کہ جب ایک فعل یا عمل انسان سے صادر ہوتا ہے تو جو کچھ اس میں اثر مخفی یا کوئی خاصیت چھپی ہوئی ہوتی ہے خدا تعالیٰ ضرور اس کو ظاہر کر دیتا ہے مثلاً جس وقت ہم کسی کوٹھڑی کے چاروں طرف سے دروازے بند کر دیں گے تو یہ ہمارا ایک فعل ہے جو ہم نے کیا اور خدا تعالیٰ کی طرف سے اس پر اثر یہ مترتب ہوگا کہ ہماری کو ٹھٹری میں اندھیرا ہو جائے گا اور اندھیرا کرنا خدا کا فعل ہے جو قدیم سے اس کے قانونِ قدرت میں مندرج ہے۔ایسا ہی جب ہم ایک وزن کافی تک زہر کھا لیں گے تو کچھ شک نہیں کہ یہ ہمارا فعل ہوگا پھر بعد اس کے ہمیں ماردینا یہ خدا کا فعل ہے جو قدیم سے اس کے قانونِ قدرت میں مندرج ہے۔غرض ہمارے فعل کے ساتھ ایک فعل خدا کا ضرور ہوتا ہے جو ہمارے فعل کے بعد ظہور میں آتا اور اس کا نتیجہ لازمی ہوتا ہے۔سو یہ انتظام جیسا کہ ظاہر سے متعلق ہے ایسا ہی باطن سے بھی متعلق ہے۔ہر ایک ہمارا نیک یا بد کام ضرور اپنے ساتھ ایک اثر رکھتا ہے جو ہمارے فعل کے بعد ظہور میں آتا ہے۔اور قرآن شریف میں جو خَتَمَ اللهُ عَلى قُلُوبِ ہم آیا ہے اس میں خدا کے مہر لگانے کے یہی معنی ہیں کہ جب انسان بدی کرتا ہے تو بدی کا نتیجہ اثر کے طور پر اس کے دل پر اور منہ پر خدا تعالی ظاہر کر دیتا ہے اور یہی معنے اس آیت کے ہیں کہ فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللهُ قُلُوبَهُمْ (الصف:۲) یعنی جب کہ وہ حق سے پھر گئے تو خدا تعالیٰ نے ان کے دل کو حق کی مناسبت سے دور ڈال دیا اور آخر کو معاندانہ جوش کے اثروں سے ایک عجیب کا یا پلٹ ان میں ظہور میں آئی اور ایسے بگڑے کہ گویا وہ وہ نہ رہے اور رفتہ رفتہ نفسانی مخالفت کے زہر نے ان کے انوار فطرت کو دبا لیا۔(کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۴۸،۴۷) آریہ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن شریف میں لکھا ہے : خَتَمَ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ کہ خدا نے دلوں پر مہر کر دی ہے تو اس میں انسان کا کیا قصور ہے؟ یہ ان لوگوں کی کو نہ اندیشی ہے کہ ایک کلام کے ماقبل اور مابعد