تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 78 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 78

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۸ سورة البقرة پر نظر نہیں ڈالتے ورنہ قرآن شریف نے صاف طور پر بتلایا ہے کہ یہ مہر جو خدا کی طرف سے لگتی ہے یہ دراصل انسانی افعال کا نتیجہ ہے۔کیونکہ جب ایک فعل انسان کی طرف سے صادر ہوتا ہے تو سنت اللہ یہی ہے کہ ایک فعل خدا کی طرف سے بھی صادر ہو۔جیسے ایک شخص جب اپنے مکان کے دروازے بند کر دے تو یہ اس کا فعل ہے اور اس پر خدا کا فعل یہ صادر ہوگا کہ اس مکان میں اندھیرا کر دے کیونکہ روشنی اندر آنے کے جو ذریعہ تھے وہ اُس نے خود اپنے لئے بند کر دیئے۔اسی طرح اس مہر کے اسباب کا ذکر خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں دوسری جگہ کیا ہے جہاں لکھا ہے : فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ الله (الصف:1) کہ جب انہوں نے بھی اختیار کی تو خدا نے ان کو سچ کر دیا، اسی کا نام مہر ہے لیکن ہمارا خدا ایسا نہیں کہ پھر اس مہر کو دور نہ کر سکے چنانچہ اُس نے مہر لگنے کے اسباب بیان کئے ہیں تو ساتھ ہی وہ اسباب بھی بتلا دیئے ہیں جن سے یہ مہر اُٹھ جاتی ہے۔جیسے کہ یہ فرمایا ہے: اِنَّه كَانَ لِلأَوَّابِينَ غَفُورًا (بنی اسرائیل : ۲۶)۔(البدر، جلد ۲ نمبر ۳۴ مورخه ۱۱ ستمبر ۱۹۰۳ ء صفحه ۳۶۷) وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ ) کیا لوگ گمان کرتے ہیں کہ اللہ تعالی محض اتنی ہی بات پر راضی ہو جاوے کہ وہ کہہ دیں کہ ہم ایمان لائے اور وہ آزمائے نہ جاویں۔ایسے لوگ جو اتنی بات پر اپنی کامیابی سمجھتے ہیں وہ یادرکھیں انہیں کے لئے دوسری جگہ آیا ہے: مَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ۔احکم جلد ۸ نمبر ۱۷ مورخه ۲۴ رمئی ۱۹۰۴ صفحه ۳) انسان کو صرف پنجگانہ نماز اور روزوں وغیرہ وغیرہ احکام کی ظاہری بجا آوری پر ہی ناز نہیں کرنا چاہئے۔نماز پڑھنی تھی پڑھ لی، روزے رکھنے تھے رکھ لئے ، زکوۃ دینی تھی دے دی وغیرہ وغیرہ مگر نوافل ہمیشہ نیک اعمال کی متمم و مکمل ہوتی ہے اور یہی ترقیات کا موجب ہوتا ہے۔مومن کی تعریف یہ ہے کہ خیرات وصدقہ وغیرہ جو خدا نے اس پر فرض ٹھہرایا ہے بجالا وے اور ہر ایک کارخیر کے کرنے میں اس کو ذاتی محبت ہو اور کسی تصنع و نمائش وریاء کو اس میں دخل نہ ہو۔یہ حالت مومن کی اُس کے سچے اخلاص اور تعلق کو ظاہر کرتی ہے اور ایک سچا اور مضبوط رشتہ اُس کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ پیدا کر دیتی ہے۔اس وقت اللہ تعالیٰ اُس کی زبان ہو جاتا ہے جس سے وہ بولتا ہے اور اُس کے کان ہو جاتا ہے جس سے وہ سنتا ہے اور اُس کے ہاتھ ہو جاتا ہے جس سے وہ کام کرتا ہے۔الغرض ہر ایک فعل اس کا اور ہر ایک حرکت و سکون اُس کا اللہ ہی کا ہوتا ہے۔اس وقت جو اس سے دشمنی کرتا ہے وہ خدا سے دشمنی کرتا ہے اور پھر فرماتا ہے کہ میں کسی بات میں اس قدر تردد نہیں کرتا جس قدر کہ