تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 76
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۶ سورة البقرة متقی کی زندگی کا نقشہ کھینچ کر آخر میں بطور نتیجہ یہ کہا: وأوليك هُمُ الْمُفْلِحُونَ یعنی وہ لوگ جو تقویٰ پر ! قدم مارتے ہیں، ایمان بالغیب لاتے ہیں، نماز ڈگمگاتی ہے پھر اُسے کھڑا کرتے ہیں، خدا کے دیئے سے دیتے ہیں باوجود خطرات نفس ، بلا سوچے گذشتہ اور موجودہ کتاب اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور آخر کار وہ یقین تک پہنچ جاتے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جو ہدایت کے سر پر ہیں۔وہ ایک ایسی سڑک پر ہیں جو برابر آگے کو جارہی ہے اور جس سے آدمی فلاح تک پہنچتا ہے۔پس یہی لوگ فلاح یاب ہیں جو منزل مقصود تک پہنچ جاویں گے اور راہ کے خطرات سے نجات پا چکے ہیں۔اس لئے شروع میں ہی اللہ تعالیٰ نے ہم کو تقوی کی تعلیم کر کے ایک ایسی کتاب ہم کو عنایت کی جس میں تقویٰ کے وصایا بھی دیئے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ ء صفحہ ۴۹) یعنی جن لوگوں میں مذکورہ بالا اوصاف موجود ہوں وہ لوگ اپنے پروردگار کی سیدھی راہ پر ہیں اور وہی لوگ نجات یابندہ اور فرقہ ناجیہ کے لوگ ہیں۔یہی طریق نجات ہے جو اسلام نے پیش کیا ہے یہ راستہ کیا صاف اور سیدھا ہے۔طالب نجات کو لازم ہے کہ وہ اپنی عقل کو الہام ووحی الہی کے ماتحت چلائے ورنہ بھٹک جائے گا۔(الحکم جلد ۸ نمبر ۳۵،۳۴ مورخه ۱۰ تا ۱۷ را کتوبر ۱۹۰۴ صفحه ۹) اِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ وَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرُهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس جگہ خدائے تعالیٰ نے صاف فرما دیا کہ جو لوگ خدائے تعالیٰ کے علم میں ہدایت پانے کے لائق ہیں اور اپنی اصل فطرت میں صفت تقویٰ سے متصف ہیں وہ ضرور ہدایت پا جائیں گے۔اور پھر ان آیات میں جو اس آیت کے بعد میں لکھی گئی ہیں اسی کی زیادہ تر تفصیل کردی اور فرمایا کہ جس قدر لوگ ( خدا کے علم میں ایمان لانے والے ہیں وہ اگر چہ ہنوز مسلمانوں میں شامل نہیں ہوئے پر آہستہ آہستہ سب شامل ہو جائیں گے اور وہی لوگ باہر رہ جائیں گے جن کو خدا خوب جانتا ہے کہ طریقہ حقہ اسلام قبول نہیں کریں گے اور گو ان کو نصیحت کی جائے یا نہ کی جائے ایمان نہیں لائیں گے یا مراتب کاملہ تقویٰ و معرفت تک نہیں پہنچیں گے۔غرض ان آیات میں خدائے تعالیٰ نے کھول کر بتلا دیا کہ ہدایت قرآنی سے صرف متقی منتفع ہو سکتے ہیں جن کی اصل فطرت میں غلبہ کسی ظلمت نفسانی کا نہیں اور یہ ہدایت ان تک ضرور پہنچ رہے گی۔لیکن جو لوگ متقی