تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 462
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۶۲ سورة البقرة ہم قرآن شریف ہی کی تعلیم دینے کو آئے ہیں۔خدا تعالیٰ نے قرآن شریف تو اس لئے بھیجا ہے کہ اس پر عمل کیا جاوے اس میں کہیں نہیں لکھا کہ خدا کسی کو مجبور کرتا ہے۔(احکم جلد ۵ نمبر ۲۹ مورخہ ۱۰ اگست ۱۹۰۱ صفحہ ۷) قابلیت فراست سے ظاہر ہوتی ہے۔خدا نے کچھ چھپایا ہے اور کچھ ظاہر کیا ہے اگر بالکل ظاہر کرتا تو ایمان کا ثواب جاتا رہتا اور اگر بالکل چھپاتا تو سارے مذاہب تاریکی میں دبے رہتے اور کوئی بات قابل اطمینان نہ ہو سکتی اور آج کوئی مذہب والا دوسرے کو نہ کہ سکتا کہ تو غلطی پر ہے اور نہ مواخذہ کا اصول قائم رہ سکتا تھا کیونکہ یہ تکلیف مالا طاق تھی۔مگر خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے: لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا الحکم جلد ۶ نمبر ۹ مورخه ۱۰ / مارچ ۱۹۰۲ صفحه ۵) جو نبی آتا ہے اس کی نبوت اور وحی و الہام کے سمجھنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کی فطرت میں ایک ودیعت رکھی ہوئی ہے اور وہ ودیعت خواب ہے اگر کسی کو کوئی خواب سچی کبھی نہ آئی ہوتو وہ کیوں کر مان سکتا ہے کہ الہام اور وحی بھی کوئی چیز ہے؟ اور چونکہ خدا تعالیٰ کی یہ صفت ہے کہ : لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔اس لئے یہ مادہ اُس نے سب میں رکھ دیا ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۳۱ مورخه ۳۱/اگست ۱۹۰۲ صفحه ۶) شریعت کا مدار نرمی پر ہے سختی پر نہیں ہے : لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔الحکم جلد ۶ نمبر ۳۷ مورخہ ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۸) سوال : اور جن عورتوں کا مہر مچھر کی دو من چربی ہو وہ کیسے ادا کیا جاوے؟ جواب : لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔اس کا خیال مہر میں ضرور ہونا چاہئے۔خاوند کی حیثیت کو مدنظر رکھنا چاہئے۔اگر اس کی حیثیت دس روپے کی نہ ہو تو وہ ایک لاکھ روپے کا مہر کیسے ادا کرے گا۔اور مچھروں کی چر بی تو کوئی مہر ہی نہیں، یہ لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا میں داخل ہے۔(البدر جلد ۳ نمبر ۱۱ مورخه ۱۶ / مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۶،۵ وملفوظات جلد ۳ صفحه ۴۰۴) حواس باطنی میں جس طرح اس وقت فرق آجاتا ہے، حواس ظاہری میں بھی معمر ہو کر بہت کچھ فتور پیدا ہو جاتا ہے۔بعض اندھے ہو جاتے ہیں بہرہ ہو جاتے ہیں چلنے پھرنے سے عاری ہو جاتے ہیں اور قسم قسم کی مصیبتوں اور دکھوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔غرض یہ زمانہ بھی بڑا ہی رڈی زمانہ ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی زمانہ ہے جو ان دونوں کے بیچ کا زمانہ ہے۔یعنی شباب کا جب انسان کوئی کام کر سکتا ہے کیونکہ اس وقت قوئی میں نشو نما ہوتا ہے اور طاقتیں آتی ہیں۔لیکن یہی زمانہ ہے جبکہ نفس امارہ ساتھ ہوتا ہے اور وہ اس