تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 463
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۶۳ سورة البقرة۔پر مختلف رنگوں میں حملے کرتا ہے اور اپنے زیر اثر رکھنا چاہتا ہے، یہی زمانہ ہے جو مؤاخذہ کا زمانہ ہے۔اور خاتمہ بالخیر کے لئے کچھ کرنے کے دن بھی یہی ہیں لیکن ایسی آفتوں میں گھرا ہوا ہے کہ اگر بڑی سعی نہ کی جاوے تو یہی زمانہ ہے جو جہنم میں لے جائے گا اور شقی بنادے گا۔ہاں ! اگر عمدگی اور ہوشیاری اور پوری احتیاط کے ساتھ اس زمانہ کو بسر کیا جاوے تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے امید ہے کہ خاتمہ بالخیر ہو جاوے کیونکہ ابتدائی زمانہ تو بے خبری اور غفلت کا زمانہ ہے اللہ تعالیٰ اس کا مؤاخذہ نہ کرے گا جیسا کہ خود اس نے فرمایا : لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا - الحکم جلد ۹ نمبر امورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۵ صفحه ۳) قرآن شریف میں لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا آیا ہے اور رہبانیت اسلام میں نہیں ہے۔جس میں پڑ کر انسان اپنا ہاتھ سکھا لے یا اپنی دوسری قوتوں کو بریکار چھوڑ دے یا اور قسم قسم کی تکالیف شدیدہ میں اپنی جان کو ڈالے۔عبادت کے لئے دکھ اٹھانے سے ہمیشہ یہ مراد ہوتی ہے کہ انسان ان کاموں سے رکے جو عبادت کی لذت کو دور کرنے والے ہیں۔اور ان سے رُکنے میں اولاً ایسی ضرور تکلیف محسوس ہوگی اور خدا تعالیٰ کی ناراضا مندیوں سے پر ہیز کرے مثلاً ایک چور ہے اس کو ضروری ہے کہ وہ چوری چھوڑے، بدکار ہے تو بدکاری اور بدنظری چھوڑے، اسی طرح نشوں کا عادی ہے تو ان سے پر ہیز کرے۔اب جب وہ اپنی محبوب اشیاء کو ترک کرے گا تو ضروری ہے کہ اول اول سخت تکلیف اٹھا وے مگر رفته رفته اگر استقلال سے وہ اس پر قائم رہے گا تو دیکھ لے گا کہ ان بدیوں کے چھوڑنے میں جو تکلیف اس کو محسوس ہوتی ہے۔وہ تکلیف اب ایک لذت کا رنگ اختیار کرتی جاتی ہے کیونکہ ان بدیوں کے بالمقابل نیکیاں آتی جائیں گی اور ان کے نیک نتائج جو سکھ دینے والے ہیں وہ بھی ساتھ ہی آئیں گے۔یہاں تک کہ وہ اپنے ہر قول وفعل میں جب خدا تعالی ہی کی رضا کو مقدم کرلے گا اور اس کی ہر حرکت و سکون اللہ ہی کے امر کے نیچے ہوگی تو صاف اور بین طور پر وہ دیکھے گا کہ پورے اطمینان اور سکینت کا مزہ لے رہا ہے۔یہ وہ حالت ہوتی ہے جب کہا جاتا ہے کہ : لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة : ۳۶) اس مقام پر اللہ تعالیٰ کی ولایت میں آتا ہے اور ظلمات سے نکل کر نور کی طرف آجاتا ہے۔یا درکھو! کہ جب انسان خدا تعالیٰ کے لئے اپنی محبوب چیزوں کو جو خدا کی نظر میں مکر وہ اور اس کے منشاء کے مخالف ہوتی ہیں چھوڑ کر اپنے آپ کو تکالیف میں ڈالتا ہے تو ایسی تکالیف اٹھانے والے جسم کا اثر روح پر بھی پڑتا ہے اور وہ بھی اس سے متاثر ہو کر ساتھ ہی ساتھ اپنی تبدیلی میں لگتی ہے یہاں تک کہ کامل نیازمندی