تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 461 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 461

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۶۱ سورة البقرة وقفة وقفة لَنَا وَارْحَمْنَا أَنتَ مَوْلنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ (FAL لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا یعنی خدا تعالیٰ انسانی نفوس کو ان کی وسعت علمی سے زیادہ کسی بات کو قبول کرنے کے لئے تکلیف نہیں دیتا اور وہی عقیدے پیش کرتا ہے جن کا سمجھنا انسان کی حد استعداد میں داخل ہے تا اس کے حکم تکلیف مالا يطاق میں داخل نہ ہوں۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۳۲) ہمیں حکم ہے کہ تمام احکام میں، اخلاق میں ، عبادات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں پس اگر ہماری فطرت کو وہ قوتیں نہ دی جاتیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کمالات کو ظلی طور پر حاصل کر سکتیں تو یہ حکم ہمیں ہرگز نہ ہوتا کہ اس بزرگ نبی کی پیروی کرو کیونکہ خدا تعالیٰ فوق الطاقت کوئی تکلیف نہیں دیتا جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے : لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا - (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۵۶) جس پر خدا تعالی کے نزدیک اتمام حجت ہو چکا ہے وہ قیامت کے دن مؤاخذہ کے لائق ہوگا اور جس پر خدا کے نزدیک اتمام حجت نہیں ہوا اور وہ مکذب اور منکر ہے تو گوشریعت نے (جس کی بنا ظاہر پر ہے ) اُس کا نام بھی کافر ہی رکھا ہے اور ہم بھی اُس کو باتباع شریعت کافر کے نام سے ہی پکارتے ہیں مگر پھر بھی وہ خدا کے نزدیک بموجب آیت : لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا قابل مؤاخذہ نہیں ہوگا۔ہاں! ہم اس بات کے مجاز نہیں ہیں کہ ہم اُس کی نسبت نجات کا حکم دیں اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے، ہمیں اس میں دخل نہیں۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۸۶) ہم کو عقل سے بھی کام لینا چاہئے کیونکہ انسان عقل کی وجہ سے مکلف ہے۔کوئی آدمی بھی خلاف عقل باتوں کے ماننے پر مجبور نہیں ہو سکتا۔قومی کی برداشت اور حوصلہ سے بڑھ کر کسی قسم کی شرعی تکلیف نہیں اٹھوائی گئی: لَا يُحَلِفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔اس آیت سے صاف طور پر پایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام ایسے نہیں جن کی بجا آوری کوئی کر ہی نہ سکے۔اور نہ شرائع و احکام خدائے تعالیٰ نے دنیا میں اس لئے نازل کئے کہ اپنی بڑی فصاحت و بلاغت اور ایجادی قانونی طاقت اور چیستان طرازی کا فخر انسان پر ظاہر کرے اور یوں پہلے ہی سے اپنی جگہ ٹھان رکھا تھا کہ کہاں بیہودہ ضعیف انسان؟ اور کہاں کا ان حکموں پر عمل درآمد؟ خدا تعالیٰ اس سے برتر اور پاک ہے کہ ایسا لغو فعل کرے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ ء صفحہ ۷۰،۶۹) شرائط پر پابند ہونا باعتبار استطاعت ہے لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔مکتوبات احمد جلد دوم صفحه ۸۱ مکتوب ۴۹ بنام حضرت خلیفہ اوّل)