تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 460
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام قف ۴۶۰ قف سورة البقرة كُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَ قَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ إِلَيْكَ الْمَصِيرُ ۲۸۶) یعنی رسول اور اُس کے ساتھ کے مومن اس کتاب پر ایمان لائے ہیں جو اُن پر نازل کی گئی اور ہر ایک خدا پر ایمان لایا اور اس کے فرشتوں پر اور اُس کی کتابوں پر اور اُس کے رسولوں پر اور اُن کا یہ اقرار ہے کہ ہم خدا کے رسولوں میں تفرقہ نہیں ڈالتے اس طرح پر کہ بعض کو قبول کریں اور بعض کو رڈ کردیں بلکہ ہم سب کو قبول کرتے ہیں۔ہم نے سنا اور ایمان لائے۔اے خدا! ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری طرف ہی ہماری بازگشت ہے۔ان تمام آیات سے ظاہر ہے کہ قرآن شریف ان تمام نبیوں کا مانا جن کی قبولیت دنیا میں پھیل چکی ہے مسلمانوں کا فرض ٹھہراتا ہے اور قرآن شریف کی رُو سے اُن نبیوں کی سچائی کے لئے یہ دلیل کافی ہے کہ دنیا کے ایک بڑے حصہ نے اُن کو قبول کیا اور ہر ایک قدم میں خدا کی مدد اور نصرت اُن کے شامل حال ہوگئی۔خدا کی شان اس سے بلند تر ہے کہ وہ کروڑ ہا انسانوں کو اُس شخص کا سچا تابع اور جان شار کرے جس کو وہ جانتا ہے کہ خدا پر افترا کرتا ہے اور دنیا کو دھوکا دیتا ہے اور دروغ گو ہے اور اگر کاذب کو ایسی ہی عزت دی جائے جیسا کہ صادق کو تو امان اُٹھ جاتا ہے اور امر نبوت صادقہ مشتبہ ہو جاتا ہے۔پس یہ اصول نہایت صحیح اور سچا ہے کہ جن نبیوں کو قبولیت دی جاتی ہے اور ہر ایک قدم میں حمایت اور نصرت الہی اُن کے شامل حال ہو جاتی ہے وہ ہرگز جھوٹے ہوا نہیں کرتے۔ہاں ! ممکن ہے کہ پیچھے آنے والے اُن کے نوشتوں میں تحریف تبدیل کر دیں اور اپنی نفسانی تفسیروں سے اُن کے مطالب کو الٹا دیں بلکہ پرانی کتابوں کے لئے یہ بھی ایک لازمی امر ہے کہ مختلف خیالات کے آدمی اپنے خیال کے طور پر اُن کے معنی کرتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ وہی معنے جزو کتاب کی سمجھے جاتے ہیں اور پھر انہیں مختلف خیالات کی کشش کی وجہ سے کئی فرقے ہو جاتے ہیں اور ہر ایک فرقہ دوسرے فرقہ کے مخالف معنی کرتا ہے۔(چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۷۸،۳۷۷) لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأَنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى وقفة الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ