تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 459
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۵۹ سورة البقرة موجودہ تجاویز رہن جائز ہیں۔گزشتہ زمانہ میں یہ قانون تھا کہ اگر فصل ہوگئی تو حکام زمینداروں سے معاملہ وصول کر لیا کرتے تھے اگر نہ ہوتی تو معاف ہو جاتا اور اب خواہ فصل ہو یا نہ ہو حکام اپنا مطالبہ وصول کر ہی لیتے ہیں۔پس چونکہ حکام وقت اپنا مطالبہ کسی صورت میں نہیں چھوڑتے تو اسی طرح یہ رہن بھی جائز رہا کیونکہ کبھی فصل ہوتی اور کبھی نہیں ہوتی تو دونوں صورتوں میں مرتین نفع و نقصان کا ذمہ دار ہے۔پس رہن عدل کی صورت میں جائز ہے۔آج کل گورنمنٹ کے معاملے زمینداروں سے ٹھیکہ کی صورت میں ہو گئے ہیں اور اس صورت میں زمینداروں کو کبھی فائدہ اور کبھی نقصان ہوتا ہے تو ایسی صورت عدل میں رہن بیشک جائز ہے۔جب دودھ والا جانور اور سواری کا گھوڑارہن با قبضہ ہو سکتا ہے اور اس کے دودھ اور سواری سے مرتہن فائدہ اٹھا سکتا ہے تو پھر زمین کا رہن تو آپ ہی حاصل ہو گیا۔پھر زیور کے رہن کے متعلق سوال ہوا تو فرمایا: زیور ہو، کچھ ہو جب کہ انتفاع جائز ہے تو خواہ نخواہ تکلفات کیوں بناتے جاویں؟ اگر کوئی شخص زیور کو استعمال کرنے سے اس سے فائدہ اُٹھاتا ہے تو اس کی زکوۃ بھی اس کے ذمہ ہے۔زیور کی زکوۃ بھی فرض ہے چنانچہ کل ہی ہمارے گھر میں زیور کی زکوة ڈیڑھ سور و پی دیا ہے۔پس اگر زیور استعمال کرتا ہے تو اس کی زکوۃ دے۔اگر بکری رہن رکھی ہے اور اس کا دودھ پیتا ہے تو اس کو گھاس بھی دے۔الحکم جلد نمبر ۱۵ مورخه ۲۴ /اپریل ۱۹۰۳ء صفحه ۱۱) وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ، وَمَن يَكْتُهَا فَائَةَ أَثِم قلبه اور سچی گواہی کو مت چھپاؤ اور جو چھپائے گا اُس قَلْبُهُ کومت کا دل گنہگار ہے۔(اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۶۱) دل کی مثال ایک بڑی نہر کی سی ہے جس میں سے اور چھوٹی چھوٹی نہریں نکلتی ہیں جن کو شوا کہتے ہیں یا را جابا کہتے ہیں۔دل کی نہر میں سے بھی چھوٹی چھوٹی نہریں نکلتی ہیں مثلاً زبان وغیرہ۔اگر چھوٹی نہر یعنی سوے کا پانی خراب اور گندہ اور میلا ہو تو قیاس کیا جاتا ہے کہ بڑی نہر کا پانی خراب ہے۔پس اگر کسی کو دیکھو کہ اُس کی زبان یا دست و پا وغیرہ میں سے کوئی عضو نا پاک ہے تو سمجھو کہ اُس کا دل بھی ایسا ہی ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۲۹ مورخه ۱۰ راگست ۱۹۰۱ صفحه ۳) أمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللهِ وَمَلَبِكَتِهِ وَ