تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 458 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 458

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۵۸ سورة البقرة ہی نہیں پڑتی۔مسلمان اگر اس ابتلا میں ہیں تو یہ ان کی اپنی ہی بد عملیوں کا نتیجہ ہے۔ہندو اگر یہ گناہ کرتے ہیں تو مالدار ہو جاتے ہیں۔مسلمان یہ گناہ کرتے ہیں تو تباہ ہو جاتے ہیں : خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ (الحج : ۱۲) کے مصداق۔پس کیا ضروری نہیں کہ مسلمان اس سے باز آئیں۔انسان کو چاہئے کہ اپنے معاش کے طریق میں پہلے ہی کفایت شعاری مد نظر رکھے تا کہ سودی قرضہ اٹھانے کی نوبت نہ آئے جس سے سود اصل سے بڑھ جاتا ہے۔ابھی کل ایک شخص کا خط آیا تھا کہ ہزار روپیہ دے چکا ہوں ابھی پانچ چھ سو باقی ہے پھر مصیبت یہ ہے کہ عدالتیں بھی ڈگری دے دیتی ہیں۔مگر اس میں عدالتوں کا کیا گناہ ؟ جب اس کا اقرار موجود ہے تو گویا اس کے یہ معنے ہیں کہ شود دینے پر راضی ہے پس وہاں سے ڈگری جاری ہو جاتی ہے۔اس سے یہ بہتر تھا کہ مسلمان اتفاق کرتے اور کوئی فنڈ جمع کر کے تجارتی طور پر اُسے فروغ دیتے تا کہ کسی بھائی کو سود پر قرضہ لینے کی حاجت نہ ہوتی بلکہ اسی مجلس سے ہر صاحب ضرورت اپنی حاجت روائی کر لیتا اور میعاد مقررہ پر واپس دے دیتا۔(بدرجلدے نمبر ۵ مورخه ۶ رفروری ۱۹۰۸ صفحه ۶) دیکھو جو حرام پر جلدی نہیں دوڑتا بلکہ اس سے بچتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کے لئے حلال کا ذریعہ نکال دیتا ہے : مَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا (الطلاق: ۳)۔جو سود دینے اور ایسے حرام کاموں سے بچے خدا تعالیٰ اس کے لئے کوئی سبیل بنا دے گا۔ایک کی نیکی اور نیک خیال کا اثر دوسرے پر بھی پڑتا ہے، کوئی اپنی جگہ پر استقلال رکھے تو سود خوار بھی مفت دینے پر راضی ہو جاتے ہیں۔( بدرجلدے نمبر ۵ مورخه ۶ رفروری ۱۹۰۸ صفحه ۶)۔۔۔۔۔وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا۔۔۔۔۔جب تم سچی گواہی کے لئے بلائے جاؤ تو جانے سے انکا رمت کرو۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۶۱) b وَإِنْ كُنْتُمُ عَلى سَفَرٍ وَ لَمْ تَجِدُوا كَاتِبًا فَرِحْنَّ مَقْبُوضَةٌ فَإِنْ آمِنَ بَعْضُكُم بَعْضًا فَلْيُؤَدِ الَّذِى اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهُ وَليَتَّقِ اللهَ رَبَّهُ وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّكَ أَثِمَّ قَلْبُهُ وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ ٢٨٤ ہمارے نزدیک رہن جبکہ نفع ونقصان کا ذمہ دار ہو جاتا ہے اس سے فائدہ اُٹھانا منع نہیں ہے۔الحکم جلدے نمبر ۱۱ مورخہ ۲۴ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۶)