تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 448 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 448

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۴۴۸ سورة البقرة جو روحانی طور پر بھو کے پیاسے ہوں گے اُن کی اسی طور سے پوری حاجت براری کرے گا۔پس اگر یہ تذکرہ کسی اور جگہ نہیں تو یقیناً یا درکھو کہ یہ وہی تذکرہ ہے جو استعارہ کے رنگ پر بیان کیا گیا ہے۔الحکم جلد ۴ نمبر ۲۷ مورخه ۲۳ جولائی ۱۹۰۰ صفحه ۳) رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۱۴۶) علوم ہیں ہی کیا ؟ صرف خواص الاشیاء ہی کا تو نام ہے۔سیارہ، ستارہ، نباتات کی تاثیریں اگر نہ رکھتا تو اللہ تعالیٰ کی صفت علیم پر ایمان لانا انسان کے لئے مشکل ہو جاتا یہ ایک یقینی امر ہے کہ ہمارے علم کی بنیاد ، خواص الا شیاء ہے۔اس سے یہ غرض ہے کہ ہم حکمت سیکھیں ، علوم کا نام حکمت بھی رکھا ہے چنانچہ فرمایا : وَمَنْ وَمَن يُوتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا - قرآن شریف کو خدا تعالیٰ نے خیر کہا ہے چنانچہ فرمایا: وَمَن يُوتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِي خَيْرًا كَثِيرًا - پس قرآن شریف معارف اور علوم کے مال کا خزانہ ہے۔خدا تعالیٰ نے قرآنی معارف اور علوم کا نام بھی مال رکھا ہے۔دنیا کی برکتیں بھی اسی کے ساتھ آتی ہیں۔الحکم جلد ۵ نمبر ۲۹ مورخه ۱۰ راگست ۱۹۰۱ صفحه ۷) جسے نصیحت کرنی ہوا سے زبان سے کرو۔ایک ہی بات ہوتی ہے وہ ایک پیرایہ میں ادا کرنے سے ایک شخص کو دشمن بنا سکتی ہے اور دوسرے پیرا یہ میں دوست بنا دیتی ہے پس جادِ لَهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (النحل : ١٣٦) کے موافق اپنا عمل درآمد رکھو اسی طرز کلام ہی کا نام خدا نے حکمت رکھا ہے چنانچہ فرماتا ہے : يُؤْتي الحكمة الحکم جلدے نمبر ۹ مورخہ ۱۰ / مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۸) انسان اصل میں انسان سے لیا گیا ہے یعنی جس میں دو حقیقی اُنس ہوں؛ ایک اللہ تعالیٰ سے دوسرا اپنی نوع کی ہمدردی سے، جب یہ دونو اُنس اس میں پیدا ہو جاویں اُس وقت انسان کہلاتا ہے اور یہی وہ بات ہے جو انسانیت کا مغز کہلاتی ہے اور اسی مقام پر انسان اُولُوا الانتباب کہلاتا ہے۔جب تک یہ نہیں کچھ بھی نہیں۔ہزار دعوی کرو اور دکھاؤ مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کے نبی اور فرشتوں کے نزدیک بیچ ہے۔مَنْ يَشَاءُ -۔۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۱ صفحه ۳) اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقَتِ فَنِعِمَّا هِيَ وَإِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لكُمْ وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِنْ سَيَاتِكُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (۲۷۲) اگر تم ظاہر کر و خیرات کو تو وہ اچھا ہے اور اگر تم خیرات کو چھپاؤ تو وہ بہت ہی اچھا ہے۔ایسی خیرات تمہاری بُرائیاں دور کرے گی۔برائین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۴۱۵)