تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 449 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 449

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۴۹ سورة البقرة الَّذِينَ يُنْفِقُونَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَ عَلَانِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُم عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ) (۲۷۵ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۵۷) وہ کبھی پوشیدہ خیرات کرتے ہیں اور کبھی ظاہر۔پوشیدہ اس لئے کہ تاریا کاری سے بچیں اور ظاہر اس لئے کہ تا دوسروں کو ترغیب دیں۔انجیل میں کہا گیا ہے کہ تم اپنے نیک کاموں کو لوگوں کے سامنے دکھلانے کے لئے نہ کر ونگر قرآن کہتا ہے کہ تم ایسا مت کرو کہ اپنے سارے کام لوگوں سے چھپاؤ بلکہ تم حسب مصلحت بعض اپنے نیک اعمال پوشیدہ طور پر بجالا ؤ جب کہ تم دیکھو کہ پوشیدہ کرنا تمہارے نفس کے لئے بہتر ہے اور بعض اعمال دکھلا کر بھی کر وجب کہ تم دیکھو کہ دکھلانے میں عام لوگوں کی بھلائی ہے تا تمہیں دو بدلے ملیں اور تا کمز ور لوگ کہ جو ایک نیکی کے کام پر جرات نہیں کر سکتے وہ بھی تمہاری پیروی سے اُس نیک کام کو کر لیں۔غرض خدا نے جو اپنے کلام میں فرمایا: سِرًّا وَ عَلَانِيَةً یعنی پوشیدہ بھی خیرات کرو اور دکھلا دکھلا کر بھی۔ان احکام کی حکمت اُس نے خود فرما دی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ نہ صرف قول سے لوگوں کو سمجھاؤ بلکہ فعل سے بھی تحریک کرو کیونکہ ہر ایک جگہ قول اثر نہیں کرتا بلکہ اکثر جگہ نمونہ کا بہت اثر ہوتا ہے۔کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۱، ۳۲) جیسا کہ تم بعض اپنے نیک اعمال کو پوشیدہ کرتے ہو ایسا ہی بعض اوقات ان کو لوگوں پر ظاہر کرو تا لوگ تمہارے نمونہ پر چلیں کیونکہ انسان کی عادت ہے کہ نمونہ دیکھ کر اس میں قوت پیدا ہوتی ہے۔مکتوبات احمد جلد دوم صفحه ۳۵۱،۳۵۰ مکتوب نمبر ۱۲ بنام حضرت سیٹھ عبد الرحمان صاحب مدراسی ) الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرَّبُوا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطنُ مِنَ الْمَسَ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرَّبُوا وَ اَحَلَّ اللهُ الْبَيْعَ وَ حَرَّمَ الرَّبوا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَ اَمْرُةٌ إِلَى اللَّهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَبِكَ اَصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ يَرْحَقُ اللَّهُ الرَّبوا وَيُرْبِي الصَّدَقَتِ وَاللهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَادٍ أَثِيمٍ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصلحتِ وَأَقَامُوا الصَّلوةَ وَ اتَوُا الزَّكَوةَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ وَلَا خَوْفٌ