تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 447 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 447

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۴۷ سورة البقرة اور سب کا موقوف علیہ ہے کیونکہ جو شخص غافل دل اور معرفتِ الہی سے بکلی بے نصیب ہے وہ کب توفیق پاسکتا ہے کہ صوم اور صلوٰۃ بجالا وے یا دُعا کرے یا اور خیرات کی طرف مشغول ہو۔ان سب اعمال صالح کا محرک تو معرفت ہی ہے اور یہ تمام دوسرے وسائل دراصل اسی کے پیدا کردہ اور اس کے بنین و بنات ہیں اور ابتدا اس معرفت کی پر توہ اسم رحمانیت سے، ہے نہ کسی عمل سے، نہ کسی دُعا سے، بلکہ بلاعلت فیضان سے، صرف ایک موهبت ہے: يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَيُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ مَگر پھر یہ معرفت اعمال صالحہ اور حسن ایمان کے شمول سے زیادہ ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ آخر الہام اور کلام الہی کے رنگ میں نزول پکڑ کر تمام محن سینہ کو اس نور سے منور کر دیتی ہے جس کا نام اسلام ہے اور اس معرفت تامہ کے درجہ پر پہنچ کر اسلام صرف لفظی اسلام نہیں رہتا بلکہ وہ تمام حقیقت اس کی جو ہم بیان کر چکے ہیں، حاصل ہو جاتی ہے اور انسانی روح نہایت انکسار سے حضرت احدیت میں اپنا سر رکھ دیتی ہے تب دونوں طرف سے یہ آواز آتی ہے کہ جو میرا سو تیرا ہے۔یعنی بندہ کی روح بھی بولتی ہے اور اقرار کرتی ہے کہ یا الہی! جو میرا ہے سو تیرا ہے۔اور خدا تعالیٰ بھی بولتا ہے اور بشارت دیتا ہے کہ اے میرے بندے! جو کچھ زمین و آسمان وغیرہ میرے ساتھ ہے وہ سب تیرے ساتھ ہے۔اسی مرتبہ کی طرف اشارہ اس آیت میں ہے: قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا - (الزمر: ۵۴) - (آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۸۶ تا ۱۹۰) خدا تعالیٰ نے قرآن شریف کا نام مال رکھا ہے اور حکمت کا نام بھی مال رکھا ہے جیسا کہ فرماتا ہے: يُؤتي الحِكْمَةَ مَنْ تَشَاءُ : وَمَن يُؤتَ الحِمَة فَقَدْ أُوتِي خَيْرًا كَثِيرًا - مفتر لکھتے ہیں کہ اس کے معنے ہیں مالاً كثيرا۔لغت میں خیر کے معنے مال کے لکھے ہیں اور ایک اور حدیث میں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نے ایک بڑی دعوت کی اور ہر ایک قسم کا کھانا پکا یا تو بعض کھانا کھانے کے لئے آئے انہوں نے کھانا کھا کر حظ اُٹھایا اور بعض نے اس دعوت سے انکار کیا وہ بے نصیب رہے۔اب دیکھو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پلاؤ اور قورمہ وغیرہ پکا یا تھا یا روحانی کھانے تھے۔اصل بات یہ ہے کہ انبیاء اکثر روحانی امور کو طرح طرح کے پیرایوں میں بیان فرمایا کرتے ہیں اور نفسانی آدمی ان کو جسمانی امور کی طرف لے جاتے ہیں۔بھلا ہم پوچھتے ہیں کہ میچ آکر درہم و دینار بہت سے تقسیم کرے گا کہ علماء وغیرہ کے گھر سونے چاندی سے بھر جائیں گے لیکن اس کا کہاں تذکرہ ہے کہ وہ لوگ