تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 434 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 434

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۴ سورة البقرة سے نو ر و ہدایت اُٹھ گئے ہوں گے۔پھر ایک لطیف تر بات ان دونوں سلسلوں کی مماثلت میں یہ ہے کہ جیسے مسیح موسوی موسیٰ علیہ السلام کے بعد چودھویں صدی) میں آیا تھا یہاں بھی مسیح محمدی کی بعثت کا زمانہ چودھویں ہی صدی ہے اور جیسے مسیح موسوی یہودیوں کی سلطنت نہیں بلکہ رومیوں کی سلطنت میں پیدا ہوا تھا اسی طرح محمدی مسیح بھی مسلمانوں کی سلطنت میں نہیں بلکہ انگلش گورنمنٹ کی سلطنت میں پیدا ہوا ہے۔غرض ہمارا ہر گز یہ مذہب نہیں ہے کہ مہدی آکر لڑائیاں کرتا پھرے گا اور خونریزی اُس کا کام ہوگا۔احکام جلد ۵ نمبر ۲۹ مورخه ۱۰ راگست ۱۹۰۱ صفحه ۸) میں سچ کہتا ہوں کہ اگر نوح کی قوم کا اعتراض شریفانہ رنگ میں ہوتا تو اللہ تعالیٰ نہ پکڑ تا ساری قومیں اپنی کرتوتوں کی پاداش میں سزا پاتی ہیں۔خدا تعالیٰ نے تو یہاں تک بھی فرما دیا ہے کہ جولوگ قرآن سننے کے لئے آتے ہیں ان کو امن کی جگہ تک پہنچادیا جاوے خواہ وہ مخالف اور منکر ہی ہوں، اس لئے کہ اسلام میں جبر اور اکراہ نہیں جیسے فرمایا: لا إكراه في الدِّينِ - الحکم جلد ۶ نمبر ۱۳ مورخه ۱۰ / ا پریل ۱۹۰۲ صفحه ۴) وہ تمام لوگ آگاہ رہیں! جو اسلام کے بزور شمشیر پھیلائے جانے کا اعتراض کرتے ہیں کہ وہ اپنے اس دعوے میں جھوٹے ہیں۔اسلام کی تاثیرات اپنی اشاعت کے لئے کسی جبر کی محتاج نہیں ہیں اگر کسی کو شک ہے تو وہ میرے پاس رہ کر دیکھ لے کہ اسلام اپنی زندگی کا ثبوت براہین اور نشانات سے دیتا ہے۔۔۔۔انگلستان اور فرانس اور دیگر ممالک یورپ میں یہ الزام بڑی سختی سے اسلام پر لگایا جاتا ہے کہ وہ جبر کے ساتھ پھیلا یا گیا ہے مگر افسوس اور سخت افسوس ہے کہ وہ نہیں دیکھتے کہ اسلام لا اکراہ فی الدین کی تعلیم دیتا ہے اور انہیں نہیں معلوم کہ کیا وہ مذہب جو فتح پا کر بھی گرجے نہ گرانے کا حکم دیتا ہے کیا وہ جبر کر سکتا ہے؟ مگر اصل بات یہ ہے کہ ان ملانوں نے جو اسلام کے نادان دوست ہیں، یہ فساد ڈالا ہے۔انہوں نے خود اسلام کی حقیقت کو سمجھا نہیں اور اپنے خیالی عقائد کی بنا پر دوسروں کو اعتراض کا موقعہ دیا۔الحکم جلد ۶ نمبر ۱۶ مورخه ۳۰/اپریل ۱۹۰۲ء صفحه ۶) اللہ تعالیٰ جو کچھ کرتا ہے وہ تعلیم اور تربیت کے لئے کرتا ہے چونکہ شوکت کا زمانہ دیر تک رہتا ہے اور اسلام کی قوت اور شوکت صدیوں تک رہی اور اس کے فتوحات دور دراز تک پہنچے اس لئے بعض احمقوں نے سمجھ لیا کہ اسلام جبر سے پھیلایا گیا۔حالانکہ اسلام کی تعلیم ہے لا اکراه في الدايين يا اس امر کی صداقت کو ظاہر کرنے کے لئے (کہ) اسلام جبر سے نہیں پھیلا اللہ تعالیٰ نے خاتم الخلفاء کو پیدا کیا اور اس کا کام