تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 435 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 435

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۵ سورة البقرة يضع الحرب رکھ کر دوسری طرف ليظهرة عَلَى الدِّينِ كُله (الصف : ۱۰) قرار دیا یعنی وہ اسلام کا غلبہ ملل با لکہ پر حجنت اور براہین سے قائم کرے گا اور جنگ و جدال کو اُٹھا دے گا۔وہ لوگ سخت غلطی کرتے ہیں جو کسی خونی مہدی اور خونی مسیح کا انتظار کرتے ہیں۔الحکم جلد ۶ نمبر ۲۴ مورخہ ۱۰ جولائی ۱۹۰۲ صفحه ۳) اب تلوار سے کام لینا تو اسلام پر تلوار مارنی ہے، اب تو دلوں کو فتح کرنے کا وقت ہے اور یہ بات جبر سے نہیں ہو سکتی۔یہ اعتراض کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) نے پہلے تلوار اُٹھائی بالکل غلط ہے، تیرہ برس تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ صبر کرتے رہے پھر با وجود اس کے کہ دشمنوں کا تعاقب کرتے تھے مگر صلح کے خواستگار ہوتے تھے کہ کسی طرح جنگ نہ ہو۔اور جو مشرک قو میں صلح اور امن کی خواست گار ہوتیں ان کو امن دیا جاتا اور صلح کی جاتی اسلام نے بڑے بڑے پیچوں سے اپنے آپ کو جنگ سے بچانا چاہا ہے۔جنگ کی بنیاد کو خود خدا تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ چونکہ یہ لوگ بہت مظلوم ہیں اور ان کو ہر طرح سے دکھ دیا گیا ہے اس لئے اب اللہ تعالیٰ اجازت دیتا ہے کہ یہ بھی ان کے مقابلہ پر لڑیں۔ور نہ اگر تعصب ہوتا تو یہ حکم پہنچتا کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ دین کی اشاعت کے واسطے جنگ کریں۔لیکن ادھر حکم دیا کہ ( لا إكراه فی الدین یعنی دین میں کوئی زبردستی نہیں ) اور ادھر جب غایت درجہ کی سختی اور ظلم مسلمانوں پر ہوئے تو پھر مقابلہ کا حکم دیا۔البدر جلد اوّل نمبر ۱۰ مورخه ۲ جنوری ۱۹۰۳ صفحه ۷۴ ) مذہبی امور میں آزادی ہونی چاہئے۔اللہ تعالی فرماتا ہے: لا اكراه في الدِّينِ کہ دین میں کسی قسم کی زبر دستی نہیں ہے۔اس قسم کا فقرہ انجیل میں کہیں بھی نہیں ہے۔لڑائیوں کی اصل جڑھ کیا تھی ؟ اس کے سمجھنے میں ان لوگوں سے غلطی ہوئی ہے۔اگر لڑائی کا ہی حکم تھا تو تیرہ برس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تو پھر ضائع ہی گئے کہ آپ نے آتے ہی تلوار نہ اُٹھائی، صرف لڑنے والوں کے ساتھ لڑائیوں کا حکم ہے۔اسلام کا یہ اصول کبھی نہیں ہوا کہ خود ابتدائے جنگ کریں۔لڑائی کا کیا سبب تھا اسے خود خدا نے بتلایا ہے کہ: ظلموا۔خدا نے جب دیکھا کہ یہ لوگ مظلوم ہیں تو اب اجازت دیتا ہے کہ تم بھی لڑو۔یہ نہیں حکم دیا کہ اب وقت تلوار کا ہے تم زبردستی تلوار کے ذریعہ لوگوں کو مسلمان کرو۔بلکہ یہ کہا کہ تم مظلوم ہو، اب مقابلہ کر و مظلوم کو تو ہر ایک قانون اجازت دیتا ہے کہ حفظ جان کے واسطے مقابلہ کرے۔البدر جلد ۲ نمبر ۱ ، ۲ مورخه ۲۳ و ۳۰/جنوری ۱۹۰۳ صفحه ۳) یہ اعتراض کہ اگر جہاد اب جائز نہیں تو اسلام میں اول زمانہ میں کیوں تلوار سے کام لیا گیا ؟ یہ معترضین کی اپنی غلطی ہے جو باعث ناواقفیت پیدا ہوئی ہے۔انہیں معلوم نہیں کہ اسلام دین کے پھیلانے کے لئے ہرگز