تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 390
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۰ سورة البقرة ہر یک حیض کے بعد خاوند عورت کو طلاق دے اور جب تیسرا مہینہ آوے تو خاوند کو ہوشیار ہو جانا چاہئے کہ اب یا تو تیسری طلاق دے کر احسان کے ساتھ دائمی جدائی اور قطع تعلق ہے اور یا تیسری طلاق سے رک جائے اور عورت کو حسن معاشرت کے ساتھ اپنے گھر میں آباد کرے اور یہ جائز نہیں ہوگا کہ جو مال طلاق سے پہلے عورت کو دیا تھا وہ واپس لے لے۔آرید دهرم، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۵۲) جب ہم سوچیں کہ نکاح کیا چیز ہے تو بجز اس کے اور کوئی حقیقت معلوم نہیں ہوتی کہ ایک پاک معاہدہ کی شرائط کے نیچے دو انسانوں کا زندگی بسر کرنا ہے۔اور جو شخص شرائط شکنی کا مرتکب ہو وہ عدالت کی رو سے معاہدہ کے حقوق سے محروم رہنے کے لائق ہو جاتا ہے اور اس محرومی کا نام دوسرے لفظوں میں طلاق ہے لہذا طلاق ایک ایسی پوری پوری جدائی ہے جس سے مطلقہ کی حرکات سے شخص طلاق دہندہ پر کوئی بداثر نہیں پہنچتا یا دوسرے لفظوں میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک عورت کسی کی منکوحہ ہو کر نکاح کے معاہدہ کو کسی اپنی بدچلنی سے توڑ دے تو وہ اس عضو کی طرح ہے جو گندہ ہو گیا اور سڑ گیا یا اس دانت کی طرح ہے جس کو کیڑے نے کھا لیا اور وہ اپنے شدید درد سے ہر وقت تمام بدن کو ستاتا اور دکھ دیتا ہے تو اب حقیقت میں وہ دانت دانت نہیں ہے اور نہ وہ تعفن عضو حقیقت میں عضو ہے اور سلامتی اسی میں ہے کہ اس کو اکھیٹر دیا جائے اور کاٹ دیا جائے اور پھینک دیا جائے یہ سب کا رروائی قانون قدرت کے موافق ہے۔عورت کا مرد سے ایسا تعلق نہیں جیسے اپنے ہاتھ اور اپنے پیر کا لیکن تاہم اگر کسی کا ہاتھ یا پیر کسی ایسی آفت میں مبتلا ہو جائے کہ اطباء اور ڈاکٹروں کی رائے اسی پر اتفاق کرے کہ زندگی اس کی کاٹ دینے میں ہے تو بھلا تم میں سے کون ہے کہ ایک جان کے بچانے کے لئے کاٹ دینے پر راضی نہ ہو پس ایسا ہی اگر تیری منکوحہ اپنی بدچلنی اور کسی مہان پاپ سے تیرے پر و بال لاوے تو وہ ایسا عضو ہے کہ بگڑ گیا اور سڑ گیا اور اب وہ تیرا عضو نہیں ہے اس کو جلد کاٹ دے اور گھر سے باہر پھینک دے ایسا نہ ہو کہ اس کی زہر تیرے سارے بدن میں پہنچ جائے۔اور تجھے ہلاک کرے پھر اگر اس کاٹے ہوئے اور زہر یلے جسم کو کوئی پرند یا درند کھالے تو مجھے اس سے کیا کام کیونکہ وہ جسم تو اس وقت سے تیرا جسم نہیں رہا جبکہ تو نے اس کو کاٹ کر پھینک دیا اب جبکہ طلاق کی ایسی صورت ہے کہ اس میں خاوند خاوند نہیں رہتا اور نہ عورت اس کی عورت رہتی ہے اور عورت ایسی جدا ہو جاتی ہے کہ جیسے ایک خراب شدہ عضو کاٹ کر پھینک دیا جاتا ہے تو ذرہ سوچنا چاہئے کہ طلاق کو نیوگ سے کیا مناسبت ہے؟ طلاق تو اس حالت کا نام ہے کہ جب عورت سے بیزار ہو کر بکلی قطع تعلق اس سے کیا جائے مگر نیوگ میں تو خاوند بدستور